خطبات وقف جدید — Page 430
430 حضرت خلیفہ مسیح الرابع بیرون کا چندہ ایک کروڑ سے زائد ہو سکتا ہے۔جس وقت میں نے یہ اعلان کیا اس وقت پاکستان سمیت کل وعدہ جات ایک کروڑ باون لاکھ چھیالیس ہزار آٹھ سو چھیاسٹھ روپے کے تھے اور بہت بڑی رقم جو درمیان میں رہ گئی تھی وہ وصولی میں کی تھی۔پھر بھی مجھے یہ یقین تھا اور یہ میرا لمبا تجربہ ہے کہ یہ جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت ہے ، ایک اعجازی جماعت ہے اس جماعت سے جتنی بھی بڑی توقعات کی جائیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انھیں پورا کرتا چلا جاتا ہے اور حیرت انگیز طور پر بعض دفعہ ایک ناممکن بات بھی ممکن ہوتی دکھائی دیتی ہے پس اسی امید پر میں نے یہ اعلان کیا تھا۔آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ 1993ء میں وقف جدید کی مجموعی وصولی ایک کروڑا کا نوے لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے اس میں سے اگر پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ کا وعدہ نکال دیا جائے تب بھی ایک کروڑ بیس لاکھ روپے باہر کی وصولی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش اور بیرونِ ممالک کی وصولی ملا کر ایک کروڑا کا نوے لاکھ اڑسٹھ ہزار باسٹھ روپے ہوئی ہے۔جہاں تک بیرون کے وعدوں کا تعلق ہے وہ ترانوے لاکھ انتیس ہزار تین سو بہتر روپے کے تھے جبکہ وصولی ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ اکتیس ہزار تین سو پانچ روپے تک پہنچ گئی۔پس خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت نے اس توقع کو بہت نمایاں طور پر پورا کیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالی اسی طرح آئندہ بھی جماعت کا قدم ترقی کی طرف رواں دواں رہے گا۔جہاں تک جماعتوں کی آپس کی دوڑ کا تعلق ہے میں نمونہ چند جماعتوں کی مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتا رہا ہوں۔آج بھی چند مثالیں آپ کے سامنے رکھنے کے لئے نکالی ہیں۔مجموعی طور پہ خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کو دنیا بھر کی جماعتوں پر وقف جدید کے چندے کے لحاظ سے سبقت حاصل ہوئی ہے اور وہ باقی ممالک سے نمایاں طور پر آگے ہے۔گزشتہ سال جب جماعتوں کے عام چندوں اور چندہ وصیت وغیرہ کے متعلق میں نے موازنہ پیش کیا تھا اور یہ بتایا تھا جرمنی نے اس سال جماعت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اس پر مجھے پاکستان سے بہت سے احتجاج کے خطوط ملے، شکووں کے خط ملے، جیسے میں نے جرمنی کو زبر دستی آگے کر دیا ہو اور یہ پڑھ کر مجھے لطف آتا تھا کہ ساتھ جوش کا اظہار تھا کہ بس ایک دفعہ غلطی ہوگئی۔اب ہم نے انھیں آگے نہیں نکلنے دینا اور اب ماشاء الله وقف جدید کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے جرمنی کو تیسرے نمبر پر کر دیا ہے۔اور تقریباً جرمنی سے دو گنے وعدے ہیں۔پس اللہ کے فضل سے ساری جماعتیں سبقت فی الخیر کا ایک ایسا جذبہ رکھتی ہیں کہ اس کی مثال دنیا کی کسی اور قوم کسی اور جماعت میں نہیں مل سکتی۔پاکستان نمبر ایک ہے اور امریکہ چالیس لاکھ تریسٹھ ہزار روپے کی وصولی کے ساتھ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔تیسرے نمبر پر جرمنی ہے اور جب تک ماریشس کا نام نہیں آتا میں یہ فہرست