خطبات وقف جدید — Page 431
431 حضرت خلیفہ المسیح الرابع پڑھتا چلا جاؤں گا چوتھے نمبر پر کینیڈا ہے۔پانچویں نمبر پر برطانیہ ہے۔چھٹے نمبر پر انڈیا ہے۔ساتویں نمبر پر سوئٹزر لینڈ ہے۔آٹھویں پر جاپان ہے۔نویں پر انڈونیشیا اور دسویں نمبر پر ماشاء اللہ ماریشس ہے۔جماعت کی تعداد کے لحاظ سے ماریشس نے خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت نمایاں قربانی کی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو مبارک فرمائے۔فی کس قربانی کے لحاظ سے سوئٹزر لینڈ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وقف جدید میں ہم نے دنیا کے کسی اور ملک کو آگے نہیں نکلنے دینا۔اس سال بھی خدا کے فضل سے وہ اس عہد پر قائم رہے چنانچہ فی کس وصولی کے لحاظ سے یعنی (80) اسی پونڈ سے کچھ زائد فی کس چندہ وقف جدید ، چندہ دہندگان نے ادا کیا جو خدا کے فضل سے غیر معمولی قربانی ہے کیونکہ بے شمار دوسرے چندے بھی ہیں اور وقف جدید ان میں نسبتاً چھوٹی حیثیت کا چندہ ہے۔اس میں انھوں نے نہ صرف یہ کہ نمایاں طور پر غیر معمولی قدم آگے بڑھایا ہے بلکہ جاپان جو بھی ان کے قریب تھا اسے تقریبا نصف فاصلے پر پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔جاپان کا فی کس وعدہ 47 پونڈ ہے۔سیتھیئم ایک چھوٹا سا ملک ہونے کے باوجود خدا کے فضل سے تیزی سے ترقی کر رہا ہے جماعت میں تبلیغ کے لحاظ سے بھی غیر معمولی جوش ہے ان کی وصولی فی کس کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے اور امریکہ بہت معمولی فرق کے ساتھ چوتھے نمبر پر اور نمبر پانچ پر جرمنی ہے۔اگر دسویں نمبر پر ماریشس ہوتا تو میں پوری لسٹ پھر پڑھ جاتا تا کہ آپ کا نام پھر سامنے آجائے۔لیکن ایک اور لسٹ ہے۔جس کے لحاظ سے آپ کا نام سامنے آنیوالا ہے، ماشاء اللہ۔ایک پہلو سے افریقہ کا ایک ملک غانا سب دنیا سے آگے نکل گیا ہے اور وہ پہلو چندہ دہندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کرنے کا ہے۔یعنی وقف جدید میں جتنے پہلے چندہ دینے والے تھے، ان میں کتنا مزید اضافہ ہوا ہے اس لحاظ سے سب سے زیادہ اضافہ کرنے والا غانا ہے۔ان کی تعداد 1992 ء میں صرف 2520 تھی اور اب ماشاء اللہ 70 99 ہوگئی ہے۔جماعت غانا بھی ہر پہلو سے بیدار ہو رہی ہے اور ماشاء اللہ نمبر دوپر گیمبیا ہے جہاں پر ابھی بہت زیادہ کام کی گنجائش ہے نمبر تین پر فلسطین ہے جنھوں نے سو فیصد سے بھی زائد چندہ دہندگان کی تعداد بڑھائی، پھر انڈونیشیا ہے پھر پیجم اور چھٹے نمبر پر ماریشس کی باری ہے جہاں 843 وعدہ دہندگان کی تعداد خدا کے فضل سے بڑھ کر 1142 ہو چکی ہے اور جس طرح میں نے یہاں جماعت کو مخلص پایا ہے اور ہر فرد بشر سے ملاقات کر کے میں نے یہاں اندازہ لگایا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ معمولی سی توجہ کرنے سے آئندہ سال تعداد کے لحاظ سے بھی یہاں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔ساتویں نمبر پر سوئٹزر لینڈ ہے۔