خطبات وقف جدید — Page 429
429 حضرت خلیفة المسیح الرابع خطبہ جمعہ فرمودہ 31 دسمبر 1993ء بمقام ماریشس تشہد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 1993ء کا سال جمعہ کے روز ہی شروع ہوا تھا اور جمعہ کے روز ہی ختم ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی برکتیں جماعت کے لئے لایا ہے جو آئندہ ہمیشہ جاری رہنے والی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سال اس حال میں اختتام پذیر ہو رہا ہے کہ اگلے سال کے لئے بھی بہت سی خوشخبریاں پیچھے چھوڑ کر جا رہا ہے۔جن کا ذکر میں انشاء الله وقف جدید کے اعلان کے بعد دوسرے حصے میں کروں گا۔جیسا کہ سابقہ روایات رہی ہیں ہر سال کے آخر پر جو آخری خطبہ ہو اس میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے۔وقف جدید کا آغاز 1957 ء کے آخر میں ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب تک خدا تعالیٰ نے مجھے منصب خلافت پر فائز نہیں فرمایا میں اس وقت سے لے کر آخر تک وقف جدید میں ایک خادم کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔اس پہلو سے اس تحریک سے مجھے ایک زائد قلبی وابستگی بھی ہے اور یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ یہ تحریک اللہ کے فضل کے ساتھ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی چلی جا رہی ہے اور اس کا فیض زیادہ وسیع ممالک پر محیط ہو رہا ہے۔جب میں نے 1993ء کے سال کا اعلان کیا تو مجھے یاد ہے کہ میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وقف جدید کا جو بیرون کا حصہ ہے یعنی وقف جدید کا ایک تعلق تو پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے ہے اور شروع میں وقف جدیدا نہی ممالک سے مخصوص رہی چندوں کے اعتبار سے بھی اور خدمت کے اعتبار سے بھی۔چند سال پہلے میں نے یہ اعلان کیا کہ جہاں تک چندوں کا تعلق ہے سب دنیا کو وقف جدید کی تحریک میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ جب تحریک جدید کا آغاز ہوا تھا تو ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں چندے جمع کئے جاتے تھےاوراسے ساری دنیا پر خرچ کیا جاتا تھا اب جبکہ ساری دنیا میں جماعتیں مستحکم ہو چکی ہیں تو اسی اصول کے تابع که هَلْ جَزَاءُ الإِحْسَانِ إِلَّا الإِحْسَانُ کوشش کرنی چاہئے کہ باہر سے چندہ اکٹھا کر کے اب ان ممالک میں وقف جدید کے مقاصد پر خرچ کریں۔اس پہلو سے جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی اخلاص کے ساتھ لبیک کہا گذشتہ سال کے آغاز پر میں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بیرونِ پاکستان کا چندہ اب کروڑ کے قریب پہنچ چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت ذرا مزید کوشش کرے تو اس سال کے اختتام تک انشاء اللہ