خطبات وقف جدید — Page 36
36 46 حضرت مصلح موعود خطبه جمعه فرموده 21 فروری 1958ء بمقام کراچی سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس دفعہ 1957ء کے آخر میں میری طبیعت خراب ہونی شروع ہوئی تھی مگر پھر جلسہ کے وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی ہوگئی۔اس کے بعد پھر خراب ہونی شروع ہوگئی۔میں تو اسے گاؤٹ کا اثر ہی سمجھتا رہا مگر ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ یہ تکلیف گاؤٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ تبدیلی موسم کی وجہ سے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کیونکہ جلدی جلدی موسم تبدیل ہوا ہے اور سردی زیادہ شدید پڑی ہے اس لئے آپ کو یہ تکلیف ہوئی ہے۔اب یہاں کے ڈاکٹروں کا مشورہ لینے کے لئے ہم اس جگہ آئے ہیں۔مجھے پچھلے دنوں یہ بھی وہم ہونا شروع ہو گیا کہ مجھ پر فالج کا حملہ بڑھ رہا ہے یا دوبارہ فالج ہو گیا ہے مگر ڈاکٹروں سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہماری طب میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ فالج کا حملہ زیادہ بھی ہو سکتا ہے اور دوبارہ حملہ کے لئے بے ہوشی ہونی ضروری ہوتی ہے جیسے پہلے یکدم کچھ بے ہوشی ہوئی اور پھر فالج کا حملہ ہو گیا۔پس انھوں نے کہا کہ آپ کو فالج کا دوبارہ دورہ نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ کو بے ہوشی نہیں ہوئی اور فالج کے حملہ میں زیادتی طبی اصول کے خلاف ہے۔یہ الگ بات ہے کہ آپ کو ضعف ہو گیا ہو۔یا اعصابی کمزوری کی وجہ سے کوئی شکایت پیدا ہوئی ہو۔مگر یہ کہ فالج کا حملہ آپ ہی آپ بڑھتا چلا جائے یہ طبی اصول کے خلاف ہے اور دوبارہ حملہ کے لئے پہلے بے ہوشی ضروری ہوتی ہے بہر حال اگر ان کی یہ رائے درست ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی سال گذرا ہے جس میں بڑی سخت سردی آئی۔پچھلے سال جب ہم جابہ سے چلے ہیں تو وہاں بہت سردی تھی ربوہ میں آئے تو وہاں بھی سردی تھی۔جلسہ کے قریب کچھ سردی کم ہوئی تو بدن میں طاقت آنی شروع ہوگئی۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے، قادیان میں بھی 22، 23 دسمبر کو شاید لوگوں کے اثر دہام کی وجہ سے گرمی سی آجاتی تھی۔اور ربوہ تو یوں بھی گرم مقام ہے۔بہر حال اس گرمی کا فائدہ ہوا اور مجھے تقریروں کی توفیق مل گئی۔آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں مختلف انبیاء گذرے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے اپنے وقت میں ہدایتیں بخشیں اور انھوں نے خدا تعالیٰ کا نام پھیلانے اور اس کے دین کی خدمت کرنے کے لئے بڑی جدو جہد کی اس کے بعد اللہ تعالیٰ صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ