خطبات وقف جدید — Page 422
422 حضرت خلیفتہ المسح الرابع بہت اونچا ہے۔نائیجریا کی وصولی صرف 536 پاؤنڈ ہے اور یہ ماننے والی بات نظر نہیں آتی جتنا مرضی غربت کو آپ اسکا ذمہ دار قرار دیں اوّل تو نائیجیریا اتنا غریب ہے ہی نہیں جتنا باقی افریقہ کے دوسرے ممالک ہو چکے ہیں اور دوسرے وہاں کی جماعت کو میں جانتا ہوں بڑے بڑے مخلص قربانی کرنے والے ایسے بھی ہیں جنھوں نے بڑی بڑی جائیدادیں جماعت کے سامنے پیش کی ہیں کافی صاحب حیثیت لوگ ہیں۔تو یہ قصور جو بھی ہے یا امارت کا قصور ہے یا سیکریٹری وقف جدید کا قصور ہے اور الگ الگ بھی نہیں کہنا چاہئے ، دونوں کامل کر ہے۔بہر حال امیر بھی ذمہ دار ہے اور سیکریٹری بھی ذمہ دار ہے۔بینن صرف 478 پاؤنڈ ہے۔ساؤتھ افریقہ صرف 416 پاؤنڈ ہے، گیمبیا صرف 370 پاؤنڈ ہے مگر گیمبیا کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں واقعہ بہت غربت ہے اور جوروزمرہ کے چندے ہیں ان میں وہ اللہ کے فضل سے ذمہ داری سے ادا ئیگی کرتے ہیں اور جتنی مجھے توقع تھی اس سے زیادہ ذمہ داری سے وہ ماہانہ چندےادا کرنے والے ہیں اور یہ رجحان اب خدا کے فضل سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔سیرالیون 317 پاؤنڈ ہے۔کینیا 248 ہے یہ تو کسی طرح بھی قابلِ فہم نہیں ہے۔کینیا میں ایک بڑی تعداد ایسے متمول پاکستانی دوستوں کی بھی ہے اور درمیانی طبقے کی بھی ہے کہ اگر وہی وقف جدید میں مسابقت کی روح سے حصہ لیں تو سینکڑوں کی بجائے ہزاروں تک تو آسانی سے پہنچ سکتے ہیں اور اب تو کینیا میں تیزی سے افریقن لوگوں میں بھی خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ پھیل رہی ہے۔اس سے پہلے یہ کمزوری تھی کہ افریقن قوموں میں جماعت کا نفوذ کم تھا لیکن اب یہ کمزوری ختم ہو چکی ہے اور بڑی تیزی سے افریقن قوموں میں نفوذ ہو رہا ہے اور وہ بھی خدا کے فضل سے چندے کے معاملے میں پیچھے رہنے والے لوگ نہیں ہیں، غریب ہیں مگر دل کے امیر ہیں۔پس یہ جو تصویر ہے یہ بھی جماعت کے انتظام کی کمزوری کی تصویر ہے نہ کہ ان لوگوں کی اقتصادی یا دینی حالت کی تصویر تنزانیہ بھی اسی پہلو سے قابل توجہ ہے۔اس کی وصولی صرف 231 ہے آئیوری کوسٹ 174 اور یوگنڈا 83 پاؤنڈ ، حالانکہ یوگنڈا میں میں خود جانتا ہوں کہ بعض یوگنڈن احمدی ایسے ہیں کہ وہ اکیلے بھی باقی چندوں کے علاوہ سینکڑوں پاؤنڈ دے سکتے ہیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ جنھوں نے تحریک کرنی تھی جنھوں نے اہمیت سمجھانی تھی وہ افسوس ہے کہ اس معاملے میں ناکام رہے ہیں۔مشرق بعید کے ممالک میں کل ادائیگی کے لحاظ سے انڈونیشیا نمبر 1 ہے ، جاپان نمبر 2 ، آسٹریلیا نمبر 3، سنگا پور نمبر 4 نفی نمبر 5 ، اور پہلی تین پوزیشنوں میں فی کس قربانی کے لحاظ سے جاپان کوریا اور سنگا پور آتے ہیں۔پاکستان میں کراچی نمبر 1 ہے ، ربوہ نمبر 2 ، لاہور نمبر 3 ، فیصل آباد نمبر 4 ، سیالکوٹ نمبر 5 ،