خطبات وقف جدید — Page 421
421 حضرت خلیفة المسیح الرابع اضافے کی مظہر ہے۔گذشتہ سال 1990 ء کے آخر پر جب یہ رپورٹ مجھے پیش کی گئی تو میں نے مال والوں سے اس توقع کا اظہار کیا یا شاید خطبہ میں کہا ہوگا کہ بیرونِ پاکستان عنقریب چندہ وقف جدید میں انشاء اللہ ایک کروڑ تک پہنچ سکتا ہے۔اب تک جو وصولیاں ہوئی ہیں اس کو اگر ہم پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو تین ممالک کو چھوڑ کر باقی ممالک کی کل وصولی 76لاکھ 96 ہزار روپے ہوگئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عنقریب اگلے سال یا اس سے اگلے سال انشاء اللہ یہ کروڑ سے اوپر نکل جائے گی۔افریقہ کے ممالک میں بہت ہی زیادہ غربت ہے اور جب میں ان کے اعداد و شمار پڑھ کر سناتا ہوں تو ان کو تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں، رحم کی نظر سے بھی دیکھیں اور دعا کی نظر سے دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ انکی توفیق بڑھائے ورنہ مجھے علم ہے کہ افریقہ کے ممالک میں خدا کے فضل سے اخلاص کے لحاظ سے کوئی کمی نہیں ہے لیکن صرف ایک وجہ نہیں ہے کہ وہ وقف جدید کی تحریک میں اتنا پیچھے رہ گئے ہیں ایک اور وجہ یہ ہے کہ وقف جدید کے سیکر یٹریان کا قصور معلوم ہوتا ہے ورنہ بعض دوسری مالی تحریکات میں وہ تصویر جو وقف جدید نے پیش کی ہے اس سے بہت بہتر تصویر ابھرتی ہے تو یہ اعدادو شمار بتارہے ہیں کہ انتظامیہ کا قصور ہے وقفِ جدید کو اہمیت نہیں دی گئی حالانکہ وقف جدید کا نظام وہاں واقعہ جاری ہو چکا ہے۔دیہاتی معلمین جگہ جگہ کام کر رہے ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں بلکہ ہمارے مرکزی مبلغین جو ہیں وہ دیہاتی معلمین کے محتاج رہتے ہیں کیونکہ افریقہ کے دیہاتی معلمین میں تقریر کا ایک ایسا ملکہ ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ ان کا کوئی روایتی فن ہے جو ان کے خون میں چلا آ رہا ہے اس لئے معمولی تعلیم والے بھی جب کسی صاحب علم کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کی ہر بات کو ایسی عمدگی سے پیش کرتے ہیں کہ ایک تموج سننے والوں میں پیدا ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ یوں لگتا ہے جیسے آواز کی لہریں آپ دیکھنے لگ گئے ہیں۔ان کے اندر عجیب قسم کی سنسناہٹ سی دوڑ نے لگتی ہے۔میں جب دورے پر وہاں گیا تھا تو بڑے بڑے عالم میری تقریر کے ترجمے ایسے نہیں کرتے تھے جتنا یہ دیہاتی معلم کرتے تھے۔بہت غریبانہ حالت میں یہ بیچارے کام کر رہے ہیں۔اگر افریقہ کے ممالک وقف جدید کی طرف توجہ کریں تو یہ سارا رو پید انھیں معلمین کی فلاح و بہبود پر استعمال ہوگا اور اب ہم باہر کی جگہوں سے جورو پسی لا کر ان پر خرچ کرتے ہیں پھر انشاء اللہ تعالیٰ مقامی طور پر افریقہ خود اس کام کو سنبھال لے گا۔بہر حال ماریشس صف اول پر ہے وہ ظاہر بات ہے کیونکہ ماریشس کا معیار زندگی باقی افریقہ سے