خطبات وقف جدید — Page 414
414 حضرت خلیفة المسیح الرابع اب کوشش یہ ہے اور میں بار بار دوسرے ممالک کو توجہ بھی دلا رہا ہوں کہ پاکستان یا ہندوستان والوں نے پیغام کا ابتدائی حق ادا کیا ہے۔آپ کے ملک تک پیغام پہنچائے۔نیکیاں رائج کیں ، کام کرنے کے اسلوب سکھائے اور اب کب تک آپ اسی طرح انکے پیچھے پیچھے چلیں گے۔اب وقت آ رہا ہے کہ غیر پاکستانی احمدی بھی دنیا کے ہر ملک میں چیلنج کو قبول کریں اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کریں تو انشاء اللہ وہ وقت بھی آئیں گے اور امید رکھتا ہوں کہ اللہ کرے ہماری اس نسل کی زندگی میں یہ وقت آئیں کہ بڑی بڑی عظیم الشان قو میں خدمت دین میں آگے بڑھیں اور پاکستان کے احمدیوں سے یا ہندوستان کے احمدیوں سے کسی ملک میں بھی بستے ہوں نیکیوں میں آگے بڑھنے کا مقابلہ کریں اور پھر بعض میدانوں میں آگے بڑھ کر دکھائیں۔جرمنی کے بعد کینیڈا نمبر 4 ہے اور کینیڈا نے بھی اس دفعہ خدا کے فضل سے بہت محنت کی ہے۔بہت اچھا کام ہے۔اس کے کام کے چند نمونے میں آپ کو پڑھ کر سناؤں گا۔برطانیہ کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ ثابت قدم ہے جہاں تھا اس سے نیچے نہیں گرا اور جیسا کہ 18 ہزار پا ں سے نیچے نہیں گرا اور جیسا کہ 18 ہزار پاؤنڈ کا وعدہ تھا وہ انھوں نے پورا کر دیا ہے۔ہندوستان میں اس دفعہ کچھ کمی آئی ہے اور اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ آخری دنوں یعنی نومبر دسمبر کے ہی دو مہینے خصوصیت کے ساتھ ہیں جن میں وصولی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے لیکن وہاں کے حالات بہت بگڑ گئے اور وقف جدید قادیان کے لئے دورے کا تو سوال نہیں تھا خط و کتابت کے ذریعے بھی جماعتوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا اور بہت ہی بگڑے ہوئے حالات تھے۔کچھ مزاج بگڑے۔نقصانات میں جماعت کے بھی بعض نقصانات ہوئے ہیں لیکن خدا کے فضل سے نسبتاً بہت کم ہیں تو میں امید رکھتا ہوں کہ ہندوستان کی جماعتیں بھی جہاں یہ آواز پہنچ رہی ہو اپنے طور پر کوشش کریں۔نیکی تو وہی ہوتی ہے جو اپنی ذات میں قائم ہو جائے اور جڑیں قائم کر لے اس پہلو سے ہمیں بڑ کا نمونہ اختیار کرنا چاہئے۔درخت بعض دفعہ بڑے بڑے تناور ہو جاتے ہیں اور بہت دور دور تک پھیلتے ہیں لیکن وہ درخت جو ہمیشہ ایک ہی جڑ سے تعلق رکھ کر اس سے خوراک حاصل کرتے ہیں انکے پھیلاؤ کے دائرے محدود رہتے ہیں اور ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے لیکن بڑ کے درخت میں یہ خوبی ہے کہ جوں جوں پھیلتا ہے نئی شاخیں زمین کی طرف جھکاتا ہے جو زمین تک پہنچ کر جڑیں بن جاتی ہیں اور پھر ان جڑوں سے گویا اسی درخت کے نئے بچے پیدا ہوتے ہیں جو نئے درخت کے طور پر نہیں بلکہ پہلے درخت کے مددگار بن کر تعلق کاٹے بغیر اس کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔ہندوستان میں میں نے بڑ کا ایک ایسا درخت دیکھا تھا جو غالباً ہزار سال سے بھی زائد کا تھا۔کہا جاتا