خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 411 of 682

خطبات وقف جدید — Page 411

411 حضرت خلیفة المسیح الرابع نے ایک خطبے میں اعلان کیا تھا کہ بعض گندی رسمیں راہ پارہی ہیں اس سے قومی اخلاق تباہ ہو جائیں گے اور گھروں کے امن اٹھ جائیں گے اور میاں بیوی کے وفا کے سلسلے ٹوٹ جائیں گے اور ان کے تعلقات میں رخنے پڑ جائیں گے دراڑیں پڑ جائیں گی۔ہر گز اس رجحان کو پنپنے نہ دیں چنانچہ مجھے پاکستان سے جو خطوط ملے ان سے میرا دل خدا کے حضور سجدہ ریز ہوا اور بار بار ہوا کہ وہ لوگ جو بعض بدیوں میں مبتلا تھے انھوں نے صاف لکھا کہ ہم ان غلط کاموں میں پڑ گئے تھے۔اللہ کا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جماعت سے وابستہ ہیں اور براہ راست جب آپ کی آواز ہم تک پہنچی ہے تو یہ سارے جھوٹے بت تو ڑ کر ہم نے اپنے دلوں سے باہر پھینک دیئے تو جماعت میں نیکی کی آواز پر لبیک کہنے کا جو مادہ ہے یہ صداقت کی اصل روح ہے۔اور یہ صداقت کی روح کبھی کوئی جھوٹا دنیا میں نہیں بنا سکتا۔جن لوگوں کو عقل ہے، جن کو ہوش ہے، جن کو نفسیات کا کچھ ادنی سا بھی علم ہے وہ یقیناً جانتے ہیں کہ یہ چیز بنانی کسی جھوٹے کا کام نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے تزکیہ عطا ہوتا ہے تو تزکیہ نصیب ہوتا ہے ورنہ اپنی طاقت سے تزکیہ حاصل نہیں ہوسکتا، تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کرنے والی ، پیار کرنے والی، آپ کی عاشق یہ جماعت اللہ کے فضل کے ساتھ نیکی کے ہر میدان میں آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اس عاشق نے اپنا سب کچھ اور اپنی اولاد کا سب کچھ اور اپنی جماعت کا سب کچھ جو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لا ڈالا تھا اس میں برکت پڑ رہی ہے وہ مال بڑھتا چلا جا رہا ہے ان قربانیوں کے معیار اونچے ہورہے ہیں، وہ چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں پہاڑوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔یہ سلسلہ ہائے کوہ بننے والے ہیں اس لئے نیکی کے ان رجحانات کو ہمیشہ زندہ رکھیں قائم رکھیں اور آگے بڑھاتے چلے جائیں۔وقف جدید کے سلسلہ میں جب پہلے سال اعلان ہوا تھا تو مجھے یاد ہے کہ ساٹھ یا ستر ہزار روپے کا وعدہ تھا اور پھر ہم کوشش کرتے رہے زور لگاتے رہے اور خدا کے فضل سے ہر سال تحریک آگے بڑھتی رہی پھر جب خدا تعالیٰ نے مجھے خلافت کے منصب پر فائز فرمایا تو اللہ بخش صادق صاحب کو وقف جدید کا ناظم مقرر کیا گیا اور ان کے دور میں بھی نہ صرف تحریک آگے بڑھی بلکہ جس وقت تک میں تھا اس کی نسبت مالی قربانی میں پہلے سے زیادہ تیز رفتار کے ساتھ آگے بڑھی اور اللہ کا بڑا احسان ہے کہ کسی پہلو سے بھی مجھے یہ شکوہ نہیں ہوا کہ اس میں یہ کمزوری آگئی ہے اور یہ بتاتے ہوئے مجھے خوشی ہے، کوئی غم نہیں ہے ،اگر میری کمزوریوں کی وجہ سے پہلے کوئی کمزوری تھی تو اللہ نے احسان فرمایا کہ ان کمزوریوں کو دور کر دیا اور اب جب باہر آ کر عالمی تحریک کی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے یکدم انقلاب برپا ہو گیا ہو۔مثلاً جو مواز نے میرے سامنے ہیں وہ بھی بہت خوشکن ہیں اور بہت ہی عمدہ تصویر پیش کرتے ہیں مجھے یاد ہے کہ میں نے کسی جگہ بعض