خطبات وقف جدید — Page 395
395 حضرت خلیفہ امسیح الرابع جو قادیان کی عزت اور اس کے تقدس کی خاطر قربانی کی روح کیسا تھ قادیان آبسے۔یہ سارے درویشاں قادیان ہی ہیں۔اور ان پر اصحاب الصفہ کا اور ان آیات کا مضمون بہت عمدگی سے صادق آتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے فیوض میں سے ایک فیض قرآن کریم میں یہ بھی بیان ہوا کہ وہ آخرین کو اولین سے علیسا ملانے والا ہے۔یعنی ان کے غلاموں میں سے ایک ایسا پیدا ہوگا جو دور آخر میں بسنے والے محمد مصطفی کے غلاموں کو اول دور میں پیدا ہونے والے غلاموں کا ہم عصر کر دے گا ، ان کا ساتھی بنادے گا۔پس قادیان کے درویش بھی انہی ساتھیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 1300 سے لیکر 1400 سال تک کے زمانے کی فصیل پاٹ دی اور خدا کے فضل سے اولین میں شمار ہوئے۔ان کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بہت سی ایسی تجویزیں ہیں جو میرے زیر غور ہیں اور جن کے متعلق مختصراً مختلف وقتوں میں قادیان میں بھی جماعت کے سامنے گزارش کرتا رہا ہوں۔پچھلے خطبہ میں بھی میں نے کچھ بیان کیا تھا۔اب اسی مضمون کو کچھ اور آگے بڑھا کر جماعت کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ کس رنگ میں ہمیں قادیان کے ان درویشوں کے حقوق ادا کرنے ہیں کیونکہ ان کا ہم پر احسان ہے۔ہمارا ان پر احسان نہیں ہو گا اگر ہم ان کی خاطر کچھ کریں۔وہ صحابی جس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ اصحاب الصفہ کو حکم کیوں نہیں دیتے کہ یہ باہر نکل جائیں۔اس کا ایک بھائی اصحاب الصفہ میں شامل تھا خود باہر نکلتا تھا اور کماتا تھا اور اچھا کھاتا پیتا تھا۔اسکے ذہن میں دراصل خاص طور پر اپنا بھائی تھا کہ یہ بھی ہاتھ پاؤں کا ٹھیک ٹھاک ہے۔یہ کیوں پاگلوں کی طرح یہاں بیٹھ رہا ہے۔نکتا ہے ، آنحضور ﷺہ اس کو حکم دیں تو یہ بھی باہر نکلے۔اسکے جواب میں جو بات حضور ا کرم علیہ نے بیان فرمائی جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ تم نہیں اس کا حال جانتے، وہ یہ بات تھی کہ بعض دفعہ خدا بعضوں کی وجہ سے دوسروں کو رزق عطا کرتا ہے اور تمہیں کیا پتہ کہ تمہیں جو رزق مل رہا ہے وہ اس کی برکت سے مل رہا ہو۔یہ ان کے وہ چھپے ہوئے حال تھے جن کا ایک ذکر آنحضرت ﷺ نے اس جواب میں کیا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ قادیان کے درویشوں کی برکت بھی اسی طرح سب دنیا کی جماعتوں کے اموال میں شامل ہو چکی ہے۔ان کی سہولتوں اور ان کی آسائشوں میں شامل ہو چکی ہے۔وہ لوگ جو شعائر اللہ کی حفاظت کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیں ان کی برکتیں پھیلتی ہیں اور ہم اگر ان کی خاطر کچھ کریں گے تو ان پر احسان کے طور پر نہیں بلکہ ان کے احسان کا بدلہ اتارنے کی کوشش میں کچھ کریں گے۔اگر ان کی برکت سے خدا تعالیٰ نے ہمیں مثلاً وسیع رزق عطا نہ بھی کیا ہوتب بھی ان کا حق ہے کہ وہ ساری جماعت کی خاطر ایک فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے قادیان میں بیٹھ رہے اور انہوں نے بہت ہی عظیم خدمت سرانجام دی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے