خطبات وقف جدید — Page 33
درست ہو جائے گا تو اس وقت کیا بنے گا۔33 33 حضرت مصلح موعود اسی قسم کا ایک لطیفہ پرانے زمانہ کا بھی مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی شخص تھا جس کی بھوک بہت بڑھی ہوئی تھی کسی نے اس کی دعوت کی اور اس کے سامنے بہت سے نان رکھ دیئے اور خود سالن لینے کے لئے اندر گیا جب واپس آیا تو وہ شخص سارے نان کھا چکا تھا پھر وہ سالن رکھ کر نان لینے کے لئے گیا تو آکر دیکھا کہ شور بہ ختم ہے۔دو تین دفعہ اس کے ساتھ یہی حال ہوا۔وہ نان لا کر رکھ جاتا اور شور بہ لینے جاتا تو نان ختم ہو چکے ہوتے اور شور بہ رکھ کر نان لینے جاتا تو شور بہ ختم ہو چکا ہوتا۔وہی حال ہمارا ہے کہ ایک وقت روپیہ زیادہ تھا اور واقفین کم تھے اور اب روپیہ کم ہے اور واقفین زیادہ ہیں۔میں نے اپنے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کہا ہے کہ ٹھٹھہ میں میری کچھ زمین ہے میں اس زمین میں سے دس ایکڑ تبلیغ کے لئے وقف کر دوں گا مگر یہ میری غلطی تھی۔چوہدری صاحب نے بتایا ہے کہ ٹھٹھہ کی زمین ابھی پوری طرح ان کے قبضہ میں نہیں آئی دوسرے وہ زمین ایسی جگہ ہے جو ایک طرف ہے اور وہاں آبادی کم ہے اس لئے وہاں کسی مبلغ کا رہنا مشکل ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ میرا مطلب یہ تھا کہ لا بینی ( ضلع حیدر آباد ) میں جو میری زمین ہے اس میں سے میں دس ایکڑ اس غرض کے لئے وقف کر دوں گا۔میرا بھی منشاء ہے کہ میں بھی اپنی زمین میں سے کسی جگہ دس ایکڑ اس غرض کے لئے وقف کروں۔اس طرح یہ دو وقف ہو جاتے ہیں۔ایک باندھی ، ( سندھ ) کے رئیس حاجی عبدالرحمن صاحب ہیں انھوں نے لکھا ہے کہ میری زمین میرے غیر احمدی رشتہ داروں سے مشترک ہے اس کو تو میں تقسیم نہیں کر سکتا مگر میں یہ کر دوں گا کہ دس ایکڑ زمین خود خرید کر دیدوں۔اس طرح تین وقف ہو گئے پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ میرے پاس دو مربع زمین ہے اس میں سے جتنی زمین کی ضرورت ہوئیں دینے کے لئے تیار ہوں۔ایک اور دوست نے لکھا ہے کہ مجھے فوجی خدمات کی وجہ سے ایک مربع زمین ملی ہے میں وہ زمین اس غرض کے لئے وقف کرتا ہوں۔اس کو تو میں نے لکھا ہے کہ میں اس طرح ساری زمین لینے اور تمہیں روزی سے محروم کرنے کے لئے تیار نہیں۔تم اس میں سے دس ایکڑ زمین ہمیں مقاطعہ پر دے دینا۔اس میں ہم اپنا مبلغ رکھیں گے۔غرض اب تک پانچ زمینیں بھی آچکی ہیں۔ملتان والے بھی کہہ گئے تھے کہ دو تین جگہیں ہمارے ضلع میں بھی مل جائیں گی کیونکہ بہت سے مربعوں والے ہمارے علاقہ میں ہیں اور بڑے بڑے زمیندار ہیں۔اگر وہ ایک ایک ایکڑ بھی دیں تو کافی جگہیں ہو جائیں گی لیکن بڑی چیز جو ان علاقوں میں کام دے سکتی ہے وہ دیسی طب ہے۔چوہدری صاحب نے بتایا ہے کہ ان کے رشتے کے بھائی (یعنی ماموں کے بیٹے ) جو ان کی زمینوں پر لابینی میں کام کرتے ہیں انھوں نے سنایا کہ