خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 32 of 682

خطبات وقف جدید — Page 32

32 حضرت مصلح موعود سکتا تھا اس نے 6 روپے کا وعدہ لکھوا دیا حالانکہ یہ ضروری نہیں تھا کہ اس تحریک میں صرف 6 روپے دے کر ہی حصہ لیا جائے بلکہ کم از کم 6 روپیہ کی رقم دے کر اس تحریک میں حصہ لیا جا سکتا تھا۔لیکن جماعت کے دوستوں نے اسے زیادہ سے زیادہ رقم قرار دے لیا اور اس کے مطابق وعدے لکھوانے شروع کر دیئے اب بعض وعدے ایسے آرہے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ جماعت کے افراد پر یہ بات واضح ہوگئی ہے اور وہ اسے سمجھ رہے ہیں چنانچہ اب 6 روپیہ سے زیادہ کے وعدے بھی آرہے ہیں لیکن جب یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے گی تو ایسے دوست بھی نکل آئیں گے جو مثلاً 500 یا 600 روپیہ سالانہ دے دیں اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو اور پھیلائے گا تو ایسے مالدار بھی نکلیں گے جوا کیلے ہی اپنی طرف سے اس تحریک میں ہزار، ڈیڑھ ہزار، دو ہزار، چار ہزار روپیہ بھی دے دیں۔اسی طرح امید ہے کہ اگر اس سال پوری کوشش کی جائے تو وعدوں کی تعداد 80 ہزار روپیہ تک پہنچ جائے گی اور اگلے سال تو امید ہے کہ یہ رقم بہت زیادہ بڑھ جائے گی لیکن اس وقت تک صرف 36 ہزار کی آمد ہوئی ہے اور 135 افراد کی طرف سے وقف کی درخواستیں آچکی ہیں گو یا وقف زیادہ ہے اور روپیہ تھوڑا ہے حالانکہ پیچھے ایک دور ایسا آیا ہے کہ خیال آتا تھا کہ وقف کی درخواستیں کم آئی ہیں اور روپیہ زیادہ آیا ہے مگر اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وقف بڑھ گئے ہیں اور روپیہ کم ہو گیا ہے۔گویا ہماری مثال ایسی ہے جیسے ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب گوڑیانی جنھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے 12 حواریوں میں شامل کیا تھا سنایا کرتے تھے کہ ایک احمدی حافظ تھے انھیں تبلیغ کا بہت جوش تھا وہ ایک دفعہ اس جگہ سے گذرے جہاں میں ڈاکٹر کے طور پر کام کرتا تھا اور حافظ صاحب میرے مکان پر ہی ٹھہر گئے کھانا تیار تھا۔میں نے چاولوں کا ایک تھال حافظ صاحب کے آگے لا کر رکھ دیا۔جب وہ کھا چکے تو میں نے کہا حافظ صاحب اور چاول لاؤں ؟ وہ کہنے لگے کہ اگر چاول ہیں تو لے آویں۔پھر میں نے ایک اور تھال بھر کر ان کے سامنے رکھ دیا انھوں نے اسے بھی ختم کر دیا۔میں نے کہا حافظ صاحب اور چاول لاؤں؟ کہنے لگے ہیں تو لے آئیں۔میں ایک اور تھال چاولوں کا لے آیا۔حافظ صاحب جب وہ بھی کھاچکے تو میں نے کہا حافظ صاحب اور چاول لاؤں؟ وہ کہنے لگے نہیں تکلیف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے کہا۔حافظ صاحب آپ کا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ وہ کہنے لگے سنا ہے بھیرہ میں ایک مشہور طبیب حضرت مولوی نورالدین صاحب ہیں۔میں ان سے اپنے ہاضمہ کا علاج کروانے جا رہا ہوں۔میں نے ہنس کر کہا حافظ صاحب جب آپکے ہاضمہ کا علاج ہو جائے تو آپ مہربانی فرما کر واپسی کے وقت اس طرف سے نہ آئیں بلکہ کسی اور طرف سے جائیں مجھ غریب کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ ہاضمہ درست ہونے پر آپکی مہمان نوازی کر سکوں۔جب آپ خراب ہاضمہ میں چاولوں کے 4 تھال کھا گئے ہیں تو جب ہاضمہ