خطبات وقف جدید — Page iv
خطبات وقف جدید || صاحب سہروردی اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج ” جیسے لوگ پیدا نہ ہوئے تو یہ ملک روحانیت کے لحاظ سے اور بھی ویران ہو جائے گا۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں۔“ پھر حضور انور نے کچھ عرصہ کے بعد اس وقف کی مزید تفصیلات اور کام کے طریقہء کار اور سکیم کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:۔” میری اس وقف سے غرض یہ ہے کہ پشاور سے لیکر کراچی تک ہمارے معلمین کا جال پھیلا دیا جائے اور تمام جگہوں پر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر۔یعنی دس دس پندرہ پندرہ میل پر ہمارا معلم موجود ہو۔اور اس نے مدرسہ جاری کیا ہوا ہو۔یا دکان کھولی ہوئی ہو اور وہ سارا سال اس علاقہ کے لوگوں میں رہ کر کام کرتا رہے اور گو یہ سکیم بہت وسیع ہے مگر میں نے خرچ کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ممکن ہے بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں یا اور غیر ملکوں سے بھی لئے جائیں مگر بہر حال ابتداء دس واقفین سے کی جائے گی۔اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔( تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1957 ء) اس سکیم کی تفصیل یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔بعض واقفین کو اگر ممکن ہو سکا تو ہم کمپونڈری بھی سکھا دیں گے اور کچھ رقم دواؤں کیلئے بھی دے دیں گے اور ان سے جو آمد ہوگی وہ ہم انہی پر خرچ کریں گے۔ان سے خود کچھ نہیں لیں گے۔اسی طرح ہم بعض واقفین زندگی کو کہیں گے کہ وہاں سکول کھول دیں جو ابتداء میں چاہے پرائمری تک ہی ہوں بعض واقفین کو اس علاقہ میں جن میں انکا تقرر کیا جائے روز مرہ کی ضرورت کی چیزوں کی دوکانیں کھلوا دیں۔۔۔بہر حال دوست اس سکیم کو نوٹ کر لیں۔اس کے لئے اپنے نام پیش کریں اور اس سلسلے میں اگر کوئی مفید بات ان کے ذہن میں آئے تو اس سے بھی اطلاع دیں۔“ تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1957ء) حضرت خلیفہ المسیح الثانی جماعت کی ترقی اور رشد و ہدایت کے سلسلہ میں وقف جدید کا ذکر کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں:۔” ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس قسم کے