خطبات وقف جدید — Page 391
391 حضرت خلیفہ مسیح الرابع خطبه جمعه فرموده 24 / جنوری 1992 ء بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ : تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَهُمْ : لَا يَسْتَلُوْنَ النَّاسَ الْحَافًا ۖ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ ج خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ ه اور پھر حضور انور نے فرمایا: (البقرة : 274) پیشتر اس سے کہ میں خطبہ کا مضمون شروع کروں جو دوست مسجد میں حاضر ہیں ان سے درخواست ہے کہ وہ مہربانی فرما کر ذرا آگے کو کھسک آئیں کیونکہ باہر سردی زیادہ ہے اور بہت سے دوست باہر سردی میں بیٹھے ہوں گے نماز کے لئے۔اگر ان کو باہر جانا پڑے تو دوبارہ جاسکتے ہیں۔باہر اعلان کروا دیا جائے یا دوست سن ہی رہے ہوں گے بہر حال جو بھی باہر سردی میں مشکل محسوس کرتے ہوں گے وہ اندر تشریف لے آئیں۔امید ہے کچھ نہ کچھ جگہ نکل آئے گی۔(حضورانور نے حاضرین کو آگے آگے ہونے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا ) اور آگے آجائیے۔آپ ذرا آگے کی طرف سرکیں قریب آجائیں۔مسجد میں گنجائش نکل آئی ہے۔نماز کے لئے ضرورت ہوگی تو چند منٹوں کیلئے وہ نماز کیلئے باہر تشریف لے جائیں۔باقی خطبہ اندر آکرسن سکتے ہیں۔یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورۃ البقرہ کی آیت 274 ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ان فقراء کیلئے یہ خدمتیں اور یہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہے جو خدا کی راہ میں گھیرے میں آگئے اور ایسے گھیرے میں ہیں کہ جس کے نتیجہ میں باہر نکل کر کسب معاش ان کیلئے ممکن نہیں اور وہ زمین میں کھلا پھر نہیں سکتے۔اپنی مرضی سے جہاں چاہیں جانہیں سکتے۔يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ جاہل ان کو امیر سمجھتا ہے۔بے ضرورت سمجھتا ہے۔مِنَ التَّعَفُّفِ کیونکہ انہیں مانگنے کی عادت نہیں کسی دوسرے کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَهُم یعنی اے محمد ﷺ ! تو ان کی علامتوں سے جو ان کے چہرے پر ظاہر ہیں ،ان کی پیشانیوں پر ظاہر ہیں، ان سے ان کو پہچانتا ہے۔لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا وہ پیچھے پڑکر لوگوں سے مانگتے نہیں ہیں۔وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِہ عَلِیمٌ۔اور جو کچھ بھی تم خدا کی راہ میں