خطبات وقف جدید — Page 380
380 حضرت خلیفة المسیح الرابع کافی نہیں ہے کہ یہ متقی ہے۔کیونکہ تقویٰ کی کچھ ظاہری علامتیں ہونی بھی تو ضروری ہیں۔تقویٰ اگر کسی دل میں ہو تو وہ نماز سے محبت کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک سچا متقی ہو اور نماز کیلئے اس کے دل میں جستجو اور تڑپ نہ ہو۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ اسی قادیان کی بستی میں جب بچپن میں ہم یہاں گلیوں میں گھوما کرتے تھے تو عام سے عام انسان جسے دنیا کی زندگی میں عام کہا جاتا ہے ایک مزدور ، ایک فقیر ، وہ بھی نماز کو نہ صرف اچھے تلفظ کے ساتھ ادا کر سکتا تھا بلکہ اس کے مطالب سے آگاہ تھا اور روز مرہ کے دینی مسائل سے واقف ہوا کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں قادیان کے لوگ کچھ اور ہی مخلوق دکھائی دیتے تھے۔جن کا اردگرد کی دنیا سے گویا کوئی تعلق نہیں تھا۔یہ وہ بستی تھی جہاں لوگ فقیروں کو ، مانگنے والوں کو جھک کر سلام کیا کرتے تھے، ان کی عزت کیا کرتے تھے اور ان کے سامنے دعا کی درخواستیں پیش کیا کرتے تھے۔یہ وہ بہتی تھی جہاں مزدور جوٹیشن پر مزدوری کرتے تھے پانچ وقت اپنی مزدوری کو چھوڑ کر مسجد مبارک میں حضرت مصلح موعود کے پیچھے نماز پڑھنے کے شوق میں حاضر ہوا کرتے تھے۔وہ اعتکاف بھی بیٹھا کرتے تھے۔ذکر الہی میں بھی مصروف ہوا کرتے تھے اور دیکھنے میں ریلوے کے ایک قلی ہی تھے۔یہ وہ لوگ تھے جن کو لوگ دعاؤں کیلئے بھی کہتے تھے۔ان سے استخارے بھی کروایا کرتے تھے۔ان کی مجالس میں بیٹھنا باعث فخر اور باعث عزت سمجھتے تھے۔یہ وہ معاشرہ تھا جس میں تقویٰ کی تعریف اپنے پورے جو بن کے ساتھ جلوے دکھا رہی تھی۔پس جب میں نے یہ کہا کہ تقویٰ موجود ہو اور سچا اخلاص ہو تو ہم تعلیم کی مزید پروا نہیں کریں گے تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ سطحی طور پر تقوی کو دیکھا جائے گا۔امر واقعہ تو یہی ہے کہ تقویٰ کی گہرائی میں اتر ناصرف خدا کا کام ہے لیکن کسی حد تک انسانی نظر کو بھی تو جانچ کرنی پڑتی ہے۔جس حد تک انسان کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہے اس وقت تقویٰ کی ظاہری شرائط کو پورا کرنا ہمارا فرض ہے۔پس اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ عارضی طور پر وقف کرنے والوں کو بھی ہم فوراً بغیر کسی تحقیق کے میدانِ عمل میں نہیں جھونک سکتے۔یہ ضرور دیکھنا ہوگا کہ اسے مسلمان کی روزمرہ کی زندگی کے ابتدائی فرائض ادا کرنے آتے ہیں کہ نہیں۔بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کے لئے علم کی ضرورت نہیں۔از خود ہر مسلمان کو معلوم ہونے چاہئیں اور ایک متقی کولاز ما معلوم ہوتے ہیں۔پس ان ابتدائی مسائل سے آگاہی کی خاطر اسے ان باتوں سے بہت اچھی طرح مسلح کرنے کی ضرورت ہے جو میدان عمل میں اس کے سامنے روز مرہ پیش ہوگی اور ان سے لاعلمی کے نتیجہ میں وہ اپنے فرائض کو کما حقہ ادا نہیں کر سکے گا۔جب وہ کسی کو اسلام کی طرف بلائے گا تو وہ پوچھے گا ناں کہ بتاؤ اسلام کیا ہے؟ اگر محض اخلاص ہی اخلاص ہو تو وہ اسے کیا بتائے گا۔اسکی تو ایسی ہی مثال ہوگی جیسے کہا جاتا ہے کہ ایک پٹھان نے جب فساد کے زمانے تھے کسی