خطبات وقف جدید — Page 31
31 حضرت مصلح موعود خطبه جمعه فرموده 17 جنوری 1958 ء بمقام ربوہ سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی: تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ والتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (مائدہ: آیت 3) قرآن کریم کی اس آیت میں مومنوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیکی کے بارے میں سارے کے سارے جمع ہو جایا کریں۔پرہ" کے معنی اعلیٰ درجہ کی نیکی کے ہوتے ہیں پس اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ اعلیٰ درجہ کی نیکیوں میں ایک دوسرے سے تعاون کیا کرو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ چھوٹی نیکیوں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ہمیشہ کرتے ہی اعلیٰ درجے کی نیکیاں ہیں اور جب بھی وہ کوئی کام کرتے ہیں مکمل طور پر کرتے ہیں ادھورا نہیں کرتے۔جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے میں نے گذشتہ جلسہ سالانہ پر وقف جدید کی تحریک کی تھی یہ تحریک بھی ایسی ہی ہے کہ اس میں حصہ لینا تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ والتَّقوی کے مطابق ہے اور اس میں کسی طرح روک بننا وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ کے ماتحت آتا ہے۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں غالبا لاؤڈ سپیکر کی خرابی کی وجہ سے دوستوں کو آواز پوری طرح سنائی نہیں دی بعد میں اخبار الفضل میں میرا نوٹ چھپا تو اس پر لوگوں نے اس تحریک کی طرف توجہ کی۔اس کے بعد پھر میرے دو خطبے شائع ہوئے تیسرا خطبہ آج ہو رہا ہے۔جوں جوں یہ خطبات شائع ہو کر جماعت کو پہنچیں گے امید ہے کہ دوستوں میں بیداری پیدا ہوتی چلی جائے گی۔چنانچہ جب 3 جنوری کو میں نے خطبہ پڑھا تو اس وقت تک ایک شخص کی طرف سے بھی اس تحریک میں وقف کا وعدہ نہیں آیا تھا اور ایک پیسہ کی بھی آمد نہیں ہوئی تھی مگر آج کی رپورٹ یہ ہے کہ 36 ہزار روپے کے وعدے آچکے ہیں اور 135 اشخاص کی طرف سے وقف کی درخواستیں آچکی ہیں۔لیکن ان 36 ہزار کے وعدوں میں بھی کچھ غلطی ہے، اصل میں وعدوں کی تعداد 40 ہزار سے کچھ اوپر بنتی ہے۔بعض رپورٹیں ناقص تھیں اور بعض وعدے ابھی اس رپورٹ میں شامل نہیں کئے گئے۔ان سب وعدوں کو ملا کر میرا خیال ہے کہ شاید یہ وعدے 50 ہزار سے بھی اوپر ہو جائیں۔پھر شروع میں یہ غلطی بھی ہوئی کہ جماعت نے یہ سمجھا کہ 6 روپیہ آخری حد ہے اس لئے جو شخص ایک ہزار روپیہ تک بھی اس تحریک میں دے