خطبات وقف جدید — Page 365
365 حضرت خلیفتہ المسح الرابع جدید کا اجراء ہوا ہے اور خاص طور پر یہاں آنے کے بعد جب میں نے بیرونی دنیا میں بھی وقف جدید کی تحریک کی تا کہ ہندوستان میں وقف جدید کے کام کو پھیلایا جائے تو وہاں بھی سب سے زیادہ کامیابی راجستھان کے علاقے میں ہی ہوئی ہے اور یہ وہی علاقہ ہے جو ہندوستان کا تھر سمجھ لیں یعنی سرحد کے اس طرف اگر سندھ کا تھر کا علاقہ ہے تو اس کی پرلی طرف راجستھان کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے اور وہاں بھی معلمین خدا کے فضل سے بڑی ہمت سے کام کر رہے ہیں بلکہ بعض لحاظ سے نا مساعد حالات زیادہ ہیں کیونکہ وہاں خطرات بھی در پیش ہیں یہاں کام کرتے ہوئے ہندوؤں سے احمدیوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن وہاں چونکہ ہندو مسلم مناقشتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور بعض دفعہ بہت بڑھ جاتی ہیں یعنی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے لئے باقاعدہ منظم کوششیں ہوتی ہیں ملک میں کہیں فساد ہو اس کا اثر ہر دوسری جگہ پڑتا ہے۔تو راجستھان کے علاقے میں بھی کیونکہ ہندو اکثریت سے ہیں وہاں مسلمانوں کے لئے یہ بھی ایک بڑی مشکل ہے کہ ہندوستان میں کسی جگہ فساد ہو راجستھان پر اثر پڑ جاتا ہے اور احمدی مبلغین پر بھی اثر پڑتا ہے۔نئی جماعتیں جو قائم ہو رہی ہیں ان پر بھی اثر پڑتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی نڈر مبلغین ہیں اور ان کے حسن خلق کا اثر بھی بہت ہے چنانچہ ابھی تازہ فسادات کے بعد جور پورٹیں ملی ہیں ان سے یہ معلوم کر کے اللہ تعالیٰ کا بہت ہی شکر ادا کرنے کی توفیق ملی کہ کسی احمدی کو نقصان نہیں ہوا بلکہ بعض فساد زدہ علاقوں کے ہندوؤں نے احمدیوں کی تائید کی اور اس علاقے کے مسلمان اس وجہ سے بچ گئے کہ احمدیوں نے اسلام کی جو صورت وہاں پیش کی تھی اس میں کوئی قابل نفرت بات نہیں تھی بلکہ دل موہ لینے والی باتیں تھیں۔تو وہاں بھی خدا کے فضل سے اب وقف جدید کو اچھی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔اور اس کے علاوہ دیہات میں جو روز مرہ کی تربیت کا کام ہے وہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے اور عموماً اس کی طرف نظر نہ رہنے کے نتیجے میں بڑے گہرے نقصان قوم کو پہنچ جایا کرتے ہیں۔ہم نے جب ہوش سنبھالی تو یہی دیکھا کہ دیہاتی احمدی جماعتیں بڑی مخلص ہیں۔قربانی کے میدانوں میں بھی آگے اور بہت ہی جوش کے ساتھ ہر پروگرام میں حصہ لینے والی اور جلسوں میں سب سے زیادہ بلند آواز میں نعرہ ہائے تکبیر بلند کر نیوالی جماعتیں۔اس زمانے میں یہ خیال بھی نہیں ہوا کہ اندرونی لحاظ سے علمی تربیت کی ان لوگوں میں کمی ہوگی۔اور یہ کی پھر آئندہ نسلوں پر اثر انداز ہو گی۔چنانچہ ایک لمبے عرصے تک یہی تصور تھا کہ شہری جماعتوں کے مقابل پر دیہاتی جماعتیں ہر لحاظ سے زیادہ بہتر اور مخلص ہیں لیکن جب حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقف جدید کی تحریک جاری فرمائی اور یہ نصیحت کی کہ دیہاتی علاقوں میں کام کرنا ہے، شہری علاقوں میں نہیں اور وہاں تمہاری سب سے زیادہ ضرورت ہے تو اس کے پیچھے کوئی خاص الہی تقدیر کام کر