خطبات وقف جدید — Page 362
362 حضرت خلیفہ امسیح الرابع جدید کی تحریک جاری نہ ہوئی ہوتی اور جماعت احمدیہ کو تھر کے علاقے میں اس طرح خدمت کا موقع نہ ملتا تو بعید نہیں کہ وہاں بہت تیزی کے ساتھ عیسائیت پھیل جاتی لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے اس بر وقت تحریک کے نتیجے میں جب ہم نے معلمین تقسیم کرنے کے لئے مختلف علاقوں کے جائزے لئے تو معلوم ہوا کہ تھر کے علاقے میں بڑی شدید ضروت ہے ایک تو ویسے بھی ہندوؤں میں تبلیغ کی خاطر وہی علاقہ موزوں تھا دوسرے علم ہوا کہ عیسائیوں نے بہت بڑی یلغار کر رکھی ہے اور امریکن غذائی امداد کا ایک بہت بڑا حصہ اس علاقے کی طرف منتقل کیا جارہا ہے۔چنانچہ جب میں نے وہاں دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا تو عموماً یہی مشورہ دیا گیا کہ جماعت کی طرف سے بھی کوئی امدادی پروگرام مقابل پر جاری ہونا چاہئے ورنہ یہاں کامیابی مشکل ہے۔اس پر میں نے اس تجویز کو نہ صرف سختی سے رد کیا بلکہ آئندہ بھی ہمیشہ اس تجویز کی سوچ کے دروازے بھی سب پر بند کر دیئے اور میرا استدلال یہ تھا کہ جہاں تک دولت کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے کا تعلق ہے نہ ہم اس میدان کے کھلاڑی ہیں نہ ہم اس بات کے قائل ہیں ، نہ ہمیں توفیق ہے کہ ہم دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کا اس میدان میں مقابلہ کر سکیں۔اگر ہم ایک روپیہ خرچ کریں تو امریکہ دس لاکھ روپیہ خرچ کر سکتا ہے اور اگر روپیہ کی لالچ میں یا لالچ نہ بھی کہیں ضرورت مند کی مدد پوری کر کے اسے اپنی طرف متوجہ کرنا ہے تو ضرورت بے انتہاء ہے اُسے آپ پورا نہیں کر سکتے۔ایک پیاس بھڑ کا دیں گے اور جس قسم کی پیاس بھڑ کا ئیں گے اس قسم کا پانی آپ کے پاس نہیں ہو گا اس لئے نہایت ہی جاہلانہ حرکت ہوگی اگر ہم مالی امداد کے ذریعے امریکن طاقتوں کا یا مغربی طاقتوں کا مقابلہ کریں۔دوسرا پہلو یہ تھا کہ یہ لوگ غریب ہیں اور بہت ہی لمبے عرصے سے خود اپنے ہم مذہب لوگوں کی حقارت کا نشانہ بنے رہے ہیں یعنی ہزار ہا سال سے انسانی طبقات میں سب سے زیادہ ذلیل سمجھے جانے والے لوگ تھے۔ان سے میں نے کہا کہ آپ انکی ذلتوں میں اضافہ کرنے کا سوچ کس طرح سکتے ہیں۔یہ غریب عزت دار ہیں غربت میں بھی ان کو ابھی ہاتھ پھیلانے کی عادت نہیں۔ان میں کوئی بھکاری آپ کو نظر نہیں آئے گا غریب فاقہ کش مزدور کثرت سے دیکھیں گے لیکن کوئی فقیران میں دکھائی نہیں دے گا بڑی محنت کش قوم ہے تو میں نے کہا کہ ایک ایسی باعزت قوم کو جس کا نفس معزز ہے اگر چہ بدن غریب ہے اس کے اندر خدا کی ایک ہی نعمت ہے اور وہ اس کی عزت نفس ہے آپ اسے بھکاری بنا کر وہ ایک دولت بھی اس کے ہاتھ سے چھین لیں۔چنانچہ اس استدلال کا خدا کے فضل سے اثر پڑا اور وقف جدید کے معلمین بھی پورے عزم کے ساتھ اس علاقے میں یہ سمجھتے ہوئے گئے کہ ہم نے ان کو عزت نفس عطا کرنے کے لئے جانا ہے اور یہی پیغام ان کو دیا چنانچہ مقابلہ ایک طرف دولت کا تھا اور ایک طرف اخلاقی عظمت کا۔