خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 346 of 682

خطبات وقف جدید — Page 346

346 حضرت خلیفہ المسح الرابع ہے اور یہ وہ تحریک تھی جو بے وجہ تو نہیں کہہ سکتے، لیکن بعض خاص مصلحتوں کی وجہ سے آغاز میں صرف پاکستان اور ہندوستان میں محدود کی گئی تھی۔اس عرصہ میں میں نے ایکد فعہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں تحریک کر کے یہ اجازت لی تھی چنانچہ تحریک نے اس پر پھر عمل بھی کیا کہ باہر کی دنیا کو بھی وقف جدید میں شامل کیا جائے خواہ وہ اپنا رو پید اپنے پاس ہی رکھیں چنانچہ کچھ نیم دلی کے ساتھ یہ تحریک آج سے ت پہلے جاری ہو گئی تھی اور مختلف رپورٹوں میں ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ افریقہ کے بعض ممالک نے ، یورپ نے یا امریکہ، کچھ کچھ روپیہ وقف جدید میں بھی ادا کیا ہے جو ان کے مقامی فنڈز میں شامل کر لیا گیا۔آج سے غالباً تین سال پہلے کی بات ہے جب میں نے شدھی کے خلاف جہاد کی تحریک کی تھی تو اس وقت شدھی کیلئے وقتی طور پر روپے کی کچھ ضرورت تھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے پورا ہو گیا لیکن یہ ایک ایسا کام نہیں تھا جسے ہم تھوڑی دیر کرنے کے بعد بھلا دیں۔ہندوستان میں وسیع پیمانے پر مختلف صوبوں میں مسلمانوں کو مرتد کر کے دوبارہ ہندو بنانے کی منتظم کوششیں جاری ہیں اور جتنی زیادہ میں تحقیق کروا رہا ہوں اتنا ہی زیادہ ہولناک منظر سامنے آرہا ہے۔علی گڑھ جو مسلم یونیورسٹی کا مرکز ہے اور ہندوستان میں اسلامی تعلیم کا ایسا مرکز ہے کہ گویا وہاں ایک روشنی کا مینار ہے۔اسکے اردگرد ہزاروں گاؤں ایسے ہیں جو چند نسلیں پہلے مسلمان تھے اور اب دوبارہ ہندو بنالئے گئے ہیں۔یوپی میں مسلمان مراکز کے اردگرد مشہور شہروں مثلاً لکھنو کے اردگردشاہجہان پور کے ارد گر دمختلف جگہوں میں یہی قصہ جاری ہے۔آندھرا پر دیش میں کوئی حصہ ایسا نہیں ہے، راجستھان کو لے لیں، جہاں منظم طریق پر ی تحریک جاری نہ ہو اور پنجاب میں بھی اب یہ ممتد کر دی گئی ہے۔قادیان سے باہر ہم نے یہ تحریک چلائی تھی کہ گرتے ہوئے مسلمانوں کو سنبھالیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی مسجدیں واگزار کروائی گئیں جہاں اذانیں نہیں ہوتی تھیں وہاں اذانیں دلوائی گئیں یا با قاعدہ نمازیں شروع کی گئیں اور مسجدوں کو آبا دکیا گیا۔خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت بھاری کام ہوا ہے۔پچھلے دنوں چونکہ سیاسی حالات بگڑے ہیں اسلئے اس کام میں ویسی تیزی نہیں رہی لیکن جہاں تک مخالفانہ کوششوں کا تعلق ہے وہ بھی اسی طرح جاری ہیں اور پنجاب میں گزشتہ ایک دوسال کے اندر خصوصیت کے ساتھ شدھی کی تحریک منظم طور پر داخل ہوئی ہے۔تو ان سب تحریکات کے مقابلہ کے لئے ہندوستان کی جو وقف جدید ہے مالی لحاظ سے اس کی یہ استطاعت نہیں ہے کہ جتنی ضرورت ہے وہ اسکو پورا کر سکے۔ہندوستان کی جماعتیں چونکہ چھوٹی رہ گئی ہیں ان میں یہ طاقت نہیں ہے۔اسی مقصد کے پیش نظر میں نے وقف جدید کو مستقلاً تمام دنیا میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا اس کا مقصد یہی تھا کہ یہ سارا روپیہ جب تک ضرورت پیش آتی ہے ہندوستان کے لئے وقف کیا جائے او راگر یہ ضرورت پوری ہوگئی یعنی