خطبات وقف جدید — Page 325
۔325 حضرت خلیفہ المسح الرابع آخری مہینہ میں بھی اسی طرح ہوگی بلکہ بسا اوقات سال کے آخری ہفتہ میں اتنی وصولی ہوتی ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں کی وصولی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔پھر وصولی کی اطلاعیں بعد میں بھی آتی رہتی ہیں اور کچھ بعد میں وصولیاں ہوتی ہیں۔وہ ملا کر مارچ تک تقریباً یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور بالعموم میں نے دیکھا ہے کہ کم از کم ایک چوتھائی ان آخری دنوں میں وصول ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ بجٹ 27 لاکھ کا نہ صرف پورا ہوگا بلکہ بفضلہ تعالیٰ یہ وعدوں سے بھی آگے بڑھ جائیگا۔واقعہ ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ ہمارے وعدوں کا نظام ایسا ہے کہ بہت سارے ایسے چندہ ادا کرنے والے ہیں جو وعدوں میں شامل نہیں ہو سکتے لیکن بعد میں وہ چندہ ادا کر دیتے ہیں اور وعدوں میں شامل نہ ہونا بسا اوقات ایک یقین کے نتیجہ میں بھی ہوتا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں ہم نے تو دینا ہی دینا ہے کیا فرق پڑتا ہے وعدہ لکھوائیں یا نہ لکھوائیں۔بیشک وہ وعدوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں ، بعض دفعہ وہ لکھواتے نہیں لیکن ان کے ذہن میں ایک معین رقم ہوتی ہے کہ ہم نے اتنی رقم ضرور خدا کے حضور پیش کرنی ہے اور سال کے ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ رقم ضرور پیش کرتے ہیں اس لئے وعدوں سے عموماً وصولیاں بڑھ جایا کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جماعت کی وصولی ہمیشہ، الا ما شاء اللہ ، ہر سال وعدوں سے آگے بڑھتی رہی ہے اور بجٹ سے آگے بڑھتی رہی ہے۔اس پہلو سے بڑے امید افزا حالات ہیں۔جہاں تک وقف جدید کی کوششوں اور خدمت کا تعلق ہے اس پہلو سے بھی یہ تحریک اپنے فرائض منصبی اچھی طرح ادا کر رہی ہے۔بڑے سخت مخالف حالات میں بھی اللہ تعالیٰ اس انجمن کوتو فیق عطا فرمارہا ہے اس کی تفاصیل بیان کرنے کی اس وقت ضرورت نہیں ہے۔بسا اوقات یہ باتیں جلسہ سالانہ پر بیان ہوتی رہی ہیں لیکن اب کچھ عرصہ سے میں نے صدر انجمن اور وقف جدید نیز پاکستان کی بعض دیگر مجانس کی خدمات کا تفصیل سے ذکر کر نا چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس سے بعض لوگوں کو بہت ہی زیادہ تکلیف ہوتی ہے اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ وہ جل بھن جاتے ہیں اور پھر کوشش کرتے ہیں کہ ہر نیک کام کی راہ میں وہ روڑے اٹکائیں اور نیک راہ پر چلنے والوں پر روڑے برسائیں۔خواہ مخواہ اس کے نتیجہ بھی بے وجہ بیچارے انسانوں کو تکلیف پہنچانا اور بعض معصوموں کی تکلیف کا موجب بننا یہ کوئی حکمت کی بات نہیں ہے اس لئے جہاں بعض بے بسی کے سے حالات ہیں وہاں میں عمد أخدا تعالیٰ کے ان فضلوں کا بہت تفصیل سے ذکر نہیں کرتا بلکہ عموماً خدا کے فضلوں کا ذکر کر دیتا ہوں، مجموعی فضل تو ہوتے رہیں گے وہ کسی کو تکلیف ہو یا نہ ہو وہ روک نہیں سکتا۔خدا کا وعدہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ ترقی کرنی ہے اور دشمن نے ہمیشہ اس میں ناکام رہنا ہے تو پھر بھی کوئی تبدیلی نہیں نہ میرے تفصیل بیان کرنے سے کوئی تبدیلی پیدا ہو گی لیکن آنحضرت ﷺ کی سنت ہے