خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 321 of 682

خطبات وقف جدید — Page 321

321 حضرت خلیفة المسیح الرابع لیکن منافقوں کا یہ حال ہے کہ جب رات آتی ہے تو رک جاتے ہیں جب روشنی ہوتی ہے تو چل پڑتے ہیں یعنی وہ وقت کے غلام ہوا کرتے ہیں وقت کے آقا نہیں ہوا کرتے چنانچہ مومن کو خدا تعالیٰ ابوالوقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور کا فرکو ابن الوقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔مومن اپنے وقت کو اپنی غلامی میں تبدیل کرتا ہے اس سے فائدے اٹھاتا ہے اور کافر وقت کے دھارے پر خود بخود بہتا چلا جاتا ہے۔اُس کے مقدر میں وقت کے دھارے کا رخ بدلنا نہیں ہوا کرتا اس لئے جب کافروں پر اچھے وقت آتے ہیں یا خدا کے دشمنوں پر آتے ہیں تو آپ ان کو بڑے زور سے شور مچاتے ہوئے ، بڑی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بڑ ھتا ہوا دیکھتے ہیں گویا ایک سیلاب آ گیا ہے۔جب راتیں آتی ہیں تو ان کی آواز میں منظر سے غائب ہو جاتی ہیں۔ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے یہاں کوئی سیلاب تھا ہی نہیں جیسے افریقہ کے ایک حصہ میں جب تپش کے سخت دن آتے ہیں گرمی کا موسم آتا ہے تو ہر طرف پانی سوکھ جاتا ہے اس وقت جب جان منظر سے غائب ہونے لگتی ہے یعنی یوں معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ختم ہو جائے گی اس وقت بڑی دُور سے ایک سیلاب آتا ہے جو اچانک دیکھتے ہی دیکھتے صحرا کے منظر تبدیل کر دیتا ہے۔صحرائے کا لاہاری کے جنوب کی طرف غالبا یہ علاقہ ہے جہاں اس قسم کا واقعہ ہر سال ہوتا ہے اور دُور دُور سے جانور اپنی پیاس بجھانے کے لئے اور زندگی بچانے کی خاطر ایک طبعی ، فطری اشارے کے طور پر اس طرف بھاگتے ہیں۔سیلاب تو ہر جگہ آ جاتے ہیں صحراؤں میں بھی سیلاب آجایا کرتے ہیں لیکن صحراؤں کے سیلاب ہمیشہ کے لئے صحرا کے منظر نہیں بدل سکتے۔وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔زندگی اُن کے ساتھ آتی ہے اور ان کے ساتھ ہی لوٹ جایا کرتی ہے لیکن مومنوں کی مثال خدا تعالیٰ نے اور طرح سے دی ہے۔فرمایا مومنوں کا تو یہ حال ہے کہ جیسے ایک ایسی زمین ہو جو نہایت ہی شادابی کی طاقت رکھنے والی نہایت طاقتور زمین ہو اور پانی کو اپنے اندر روکنا جانتی ہو اس کے اوپر اگر موسلا دھار بارش ہی بر سے تو وہ زمین کو بہا کر نہیں لے جاتی بلکہ اس زمین کی روئیدگی میں نئی شان پیدا کر دیتی ہے نئی قوت پیدا کر دیتی ہے۔اس کے مقابل پر کافر کی روئیدگی سطحی ہوا کرتی ہے۔دیکھنے میں نظر آتی ہے لیکن وہ وقتی اور عارضی ہوتی ہے۔جب تیزی کے ساتھ اس پر بارش برستی ہے تو بسا اوقات اس کی بناوٹ کی ظاہری روئیدگی اس کی سرسبزی اور شادابی بارش کے ساتھ بہہ جاتی ہے اور پھر جب خشک موسم آتا ہے تو پھر اس کے مقدر میں رہتا ہی کچھ نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مومنوں کی مثال ایسی زمین سے ہے کہ جب اس پر بارش برستی ہے تو وہ بہت زیادہ اُگاتی ہے اور جب نہیں برستی تو خدا ان کو شبنم سے محروم نہیں کیا کرتا۔پس شبنم ہی اُن کیلئے کافی ہو جایا کرتی ہے اور اس حالت میں بھی وہ زمین ویرانوں میں تبدیل نہیں ہو جایا کرتی بلکہ سرسبز و شاداب رہتی