خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 314 of 682

خطبات وقف جدید — Page 314

314 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع جائیں یا کم سے کم احمدیت سے ارتداد اختیار کر کے کوئی اور فرقہ اختیار کر لیں ، اگر یہ ان کی نیت ہے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس میں وہ یقینا نا کام رہیں گے۔پہلے بھی ایسی کوششیں ہو چکی ہیں پہلے بھی وہ ناکام رہے ہیں۔جن لوگوں کو ہم نے لالچ دے کے احمدی بنایا ہی نہیں وہ لالچ سے ان کے ہاتھ آنے والے بھی نہیں۔اگر پیسہ دے کے بنایا ہوا ہوتا تو پیسہ ان کو کھینچ کر لے جاتا۔لیکن ان کو تو ہم نے اس طرح بنایا ہے کہ اسلام کی محبت ان کے دل میں پیدا کی ہے ، خدائے واحد و یگانہ پر ایمان اور یقین ان کے دلوں میں پیدا کیا ہے ان کے اوپر بھی اس رنگ میں یہ آیت اطلاق پاتی ہے کہ انتہائی غریب لوگ ہونے کے باوجود ہم نے ان کو دین کی راہ میں چندوں پر آمادہ کیا اور انہوں نے چندوں میں شامل ہونا شروع کر دیا۔میں نے خود بھی اس علاقے کا دورہ کیا اور ان کو میں نے یہ پیغام دیا کہ دیکھو ہم تمہیں انسان بنانے کیلئے آئے ہیں۔انسان سے جانور بنانے کیلئے نہیں آئے تمہارے اندر بعض خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ہم ان کو تباہ کرنے کیلئے نہیں آئے ، اس لئے اگر تم نے روٹی امریکہ سے مانگنی ہے تو بے شک مانگومگر اخلاق حسنہ ہم تمہیں دیں گے۔خدا کی راہ میں ایثار کے آداب اور طریق ہم تمہیں سکھائیں گے۔اس لئے جماعت احمد یہ تو بجائے تمہیں دینے کے یہ کہنے آئی ہے کہ خدا کی راہ میں تم بھی چندے دینے شروع کرو تمہیں بھی اپنے اندر ایک عزت کا احساس پیدا ہو گا چنانچہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے نو مسلموں نے چندے دینے شروع کئے اگر چہ وہ چندے تھوڑے تھے مگر انہوں نے اپنی غربت کے حالات کے مطابق دینے ضرور شروع کئے۔وقف جدید کو میں اس سال اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ ان کی ضرورتیں پورا کرنے کیلئے خواہ لاکھوں روپے بھی خرچ کرنا پڑیں خرچ کرنا چاہیے۔اور جس طرح ہم پہلے کرتے تھے کہ قرض دیتے تھے تا کہ بھیک مانگنے کی عادت نہ پڑے عمومی طور پر قرض کا طریق ہی رکھیں اور ان کو سہولت دیں۔جب خدا ان کو توفیق دے تو وہ اس قرض کو واپس کریں۔لیکن جہاں احتیاج کے رنگ میں انفرادی ضرورت ہے وہ ان کے حق کے طور پر ان کو ملنا چاہیے جس طرح کہ دوسرے علاقوں میں جماعت کی طرف سے قرض کی بجائے صدقات اور زکوۃ میں سے دیا جاتا ہے۔لیکن ساتھ ہی اس بنیادی نکتہ کو نہیں بھولنا چاہیے۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ان کو ضرور ڈالنی ہے اس کے بغیر ان کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔اس کے بغیر اسلام کا پودا نمو پکڑتا ہی نہیں ہے جس طرح ایک آدمی ایک ٹانگ کے بغیر بھی انسان کہلا سکتا ہے مگر اس کے بغیر اس کا وجود مکمل نہیں بنتا مگر پورا وجود نہیں بنتا اسی طرح خدا کی راہ میں مالی قربانی کیے بغیر مومن کا وجود پورا بنتا ہی نہیں۔اس لئے ان پر رحم کریں اور حتی المقدور کوشش کریں کہ جتنے نو مسلم پہلے آئے تھے وہ بھی اور جتنے نئے شامل ہوں وہ بھی ضرور