خطبات وقف جدید — Page 309
309 حضرت خلیقہ امسیح الرابع کر حیران ہوا کہ خدا کے فضل کے ساتھ جہاں جہاں ابتلا آئے ہیں وہاں اللہ کے فضل سے نہ صرف قدم آگے بڑھا ہے بلکہ بعض جگہ کئی گنا آگے بڑھا ہے۔کوئٹہ کی مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے ساہیوال کی اب رکھتا ہوں۔ساہیوال میں سارے سال کا وقف جدید کا چندہ تین ہزار آٹھ سو پچھتر روپے تھا اس سے پچھلے سال اور ابتلا کے بعد دس ہزار ایک سو ننانوے ہو گیا یعنی تقریباً دگنا اور باقی سب جماعتوں کی لمبی تفصیل ہے۔کہیں اگر د گنا نہیں ہوا تو بہر حال پہلے سے بڑھا ضرور ہے۔خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں مالی تنگی بھی بہت دی گئی جہاں تجارتوں کو نقصان پہنچا اور بظاہر یہ خطرہ تھا کہ ان سب جگہوں میں مجبور ہو کر احمدی اپنے چندوں میں کمی کریں گے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کیسا تھ ان کے اندر خدا کی راہ میں قربانی کرنے کا جو جذبہ تھاوہ پہلے سے کئی گنا زیادہ قوت پکڑ گیا اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس قربانی کے پیچھے انہوں نے اپنی کیا کیا ذاتی ضروریات نظر انداز کی ہیں۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے اپنے بچوں پر خرچ کرنے میں کیا تنگی کی ، اپنے گھر پر خرچ کرنے میں کیا تنگی کی ، اپنے رہن سہن کے معیار کو کس حد تک گر ایا ، مگر عمومی نظر سے یہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ بہت سی جماعتوں کے حالات میں جانتا ہوں اس ایک دو سال کے اندر انکے مالی ذرائع غیر معمولی طور پر آگے نہیں بڑھے اور جو تجارت پیشہ احمدی ہے اس کی اطلاعات سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ان جگہوں میں بہت سی جگہوں پر بڑی کثرت کے ساتھ منظم طریق پر ان کے بائیکاٹ بھی کئے گئے ہیں اور وہاں سے جو دعاؤں کے خط آتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے ہونہار طالب علموں کو بھی جنہوں نے بڑی نمایاں کامیابی کے ساتھ تعلیم سے فراغت حاصل کی ہے ان کو بھی نوکریوں سے محروم کیا گیا، ان جگہوں میں بعض لوگ اچھی ملازمتوں پر تھے ان کو فارغ کیا گیا ، جن کو ترقیات ملنی چاہیے تھیں ترقیات دینے کی بجائے ان کو پہلے مقام سے بھی نیچے اتار دیا گیا۔کئی قسم کی مصیبتیں مشکلات ایسی ہیں جن کا ان جماعتوں پر براہ راست اقتصادی اثر پڑا ہے اس لئے میں نے جب یہ جائزہ لیا تو خصوصیت سے اسی خیال سے جائزہ لیا کہ ان کے چندے کم ہوئے ہوں گے ان میں کچھ کمزوری کے آثار ایسے ظاہر ہوئے ہوں گے کہ جہاں نظر پڑے گی تو انکے لئے دعا کی توفیق ملے گی کہ یا خدا ان کی مجبوریاں دور فرمادے تا کہ کھل کر تیری راہ میں یہ آگے بڑھ کر قدم اٹھائیں اور آگے سے زیادہ قربانیاں دیں۔لیکن جب میں نے دیکھا تو میرے دل کا عجیب حال ہوا کہ قربانیوں کے معاملہ میں یہ تو میری دعاؤں کے محتاج نہیں۔ان کی قربانیاں دعائیں اور رنگ میں مانگ رہی ہیں ،تحسین کے رنگ میں، شکر کے رنگ میں خدا کی حمد بیان کرنے کی طرف توجہ دلا رہی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ تم پر انکا حق ہے ان صلى الله کے لئے خوب دعائیں کرو۔یہ خدا کے وہ بندے ہیں جو محمد مصطفی ﷺ کے سوا کوئی دنیا کا سردار تیار نہیں کر