خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 303 of 682

خطبات وقف جدید — Page 303

303 حضرت خلیفة المسیح الرابع سے باندھ رکھا ہے۔چنانچہ ان ادوار کے حوالہ سے انسان وقت کا ایک تصور قائم کر لیتا ہے۔ویسے ساری کائنات میں ایک وقت نہیں ہوتا۔وقت کا تصور اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی دور سے باندھ رکھا ہے۔مثلاً چومیں گھنٹے کا ایک دن کہلاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین گردش کر کے خاص اس مقام پر واپس آجائے جہاں سے کسی لمحے چلی تھی۔لیکن اس مقام کی آپ تعین کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ایک مسلسل گزرتا ہوا وقت ہے۔لیکن جائزے کے بعد یہ اندازہ ہو گیا کہ تئیس گھنٹے اور کچھ منٹ بعد یعنی چوبیس گھنٹوں کے لگ بھگ یہ زمین لازماً پھر وہیں پہنچے گی۔اس نسبت سے ہر وقت جب یہ زمین چکر لگاتی ہے تو ہمارے وقت کا پیمانہ کم و بیش چوبیس گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔اور جب سال کا چکر لگاتی ہے تو تین سو پینسٹھ دن میں سے چند سیکنڈ کم یعنی ایک سال کا یہ چکر بنتا ہے۔اپنی ذات میں اس کی کچھ بھی قیمت نہیں ہزار دفعہ زمین گردش کر جائے اس سے انسان کو کیا فرق پڑتا ہے۔ایک گردش کے بعد دوسری گردش پہلی سے کیوں بہتر ہو۔اسکا جغرافیہ سے کوئی تعلق نہیں۔یہ انسان ہے جس کو خدا تعالیٰ موقعہ دیتا ہے کہ ہر گردش میں اپنی حالت بدلے اور اپنے وقت کا (جو اس دوران میں اس کو ملا ہے اس کا ) ایسا استعمال کرے کہ جب دوبارہ اس کا سر وہاں ابھرے جہاں وہ ڈوبا تھا جہاں وہ نشان لگا چکا ہے اس وقت میرا ایک دور پورا ہوگا تو پہلے سے بہتر حالت میں ابھرے۔اسکے سوا اس دورانی گردش کا اور کوئی بھی مفہوم نہیں۔پس جو کچھ بدلتا ہے وہ انسان یا اس کا گردو پیش ہے وقت ایک بظاہر گھومتی ہوئی چیز ہے لیکن فی الحقیقت یہ کچھ بھی نہیں ہے محض ایک تصویر ہے۔جو چیز گھوم رہی ہے جو چیز حرکت میں ہے وہ اس پیمانے کے اندر پڑی ہوئی کوئی چیز ہے جو مختلف شکلوں میں ڈھل رہی ہے۔اگر وہ بہتر نہ ہو تو محض وقت کے گزرنے کا کچھ بھی پیغام نہیں۔کوئی بھی اس کا معنی نہیں۔لیکن انسان عجیب خود فراموش چیز ہے کہ جو اصلیت ہے اور جو حقیقت ہے اس کو تو فراموش کر دیتا ہے اور وقت کے ظاہری پیمانے کو پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اپنی خوشیاں وابستہ کر لیتا ہے۔چنانچہ اب یہ جمعہ اس نئے سال کا جمعہ ہے جس میں اب ہم داخل ہو چکے ہیں۔اس سے پہلے مغرب نے اپنی خوشیاں اس نئے سال کے دور سے اس طرح وابستہ کیں کہ اتنی شراب پی ، اتنا غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا کہ سارے یورپین ممالک اور دوسرے مغربی ممالک میں پولیس کو کبھی بھی اتنا مصروف نہیں ہونا پڑا جتنا اس نئے سال کے آغاز پر مصروف ہونا پڑا۔ان کو مصیبت پڑی ہوئی تھی کہ کس طرح ان لوگوں کو سنبھالیں۔ان کا خوشی منانے کا طریق یہ ہے کہ نیا سال چڑھا ہے خوشیوں کا وقت ہے اس لئے ان خوشیوں کا اظہار گناہوں کے ذریعہ کیا جائے۔غیر ذمہ داری کے ذریعہ کیا جائے اور کروڑ ہا رو پیڈالرز اور پونڈ ز کی شکل میں ایک دوسرے کو مبارک باد کے پیغام دینے پر خرچ کیا جائے۔سوال یہ ہے کس چیز کی مبارکباد