خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 298 of 682

خطبات وقف جدید — Page 298

298 حضرت خلیفة المسیح الرابع انگلستان کے احباب کے لئے ایک پونڈ فی آدمی سال بھر میں دینا کوئی مشکل کام نہیں۔یہ جو کم سے کم معیار ہے اس میں بچے ایک ایک پونڈ دے کر شامل ہو سکتے ہیں اور بڑے اپنے شوق سے اس سے زیادہ دے سکتے ہیں۔پاکستان میں عموماً 12 روپے دے کر انسان وقف جدید میں شامل ہو جاتا ہے۔12 روپے آخری حد نہیں ہیں بلکہ یہ پہلی اور ابتدائی حد ہے۔اگر چہ ایک بڑی تعداد غرباء کی ہے جو 12 روپے کی حد تک ٹھہرتی ہے لیکن بعض امراء ایسے بھی ہیں جو اس سے بہت زیادہ دیتے ہیں بلکہ ہزار ہا روپیہ بھی دیتے ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ ایک پونڈ والے تو بکثرت باہر کی جماعتوں میں پیدا ہو جائیں گے انشاء اللہ۔اور ایسے خاندان بھی ہو سکتے ہیں جو اپنے ہر بچے کو اس تحریک میں شامل کر لیں اور جن ملکوں میں پونڈ کی کرنسی رائج نہیں ہے وہ اپنے حالات کے مطابق تخمینہ لگا کر پونڈ کے لگ بھگ کوئی رقم مقرر کر سکتے ہیں۔مثلاً امریکہ ہے وہ اگر 2 ڈالر مقرر کر لے تو ایک پونڈ سے تو کچھ ہی زیادہ رقم بنتی ہے۔لیکن وہاں کی معیشت اور اقتصادی حالت کے تقاضے ایسے ہیں کہ 2 ڈالر بھی ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اسی طرح جرمنی والے مارک میں مقرر کر لیں۔دوسرے ملکوں کے احمدی اپنے اپنے ملک کے مطابق تخمینہ لگائیں اور اس کے مطابق وہ فیصلہ کرلیں۔کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ شامل ہوں ، کثرت کے ساتھ احمدی بچے اور بوڑھے مرد اور عورتیں اس میں شامل ہوں اور وعدہ کی رقم اتنی رہے کہ عام چندے کے لحاظ سے خاندانوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔اس لحاظ سے میں امید کرتا ہوں کہ جن ضرورتوں کا میں نے ذکر کیا ہے انہیں ہم ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہوں میں فوری طور پر پورا کر سکیں گے۔جہاں تک پاکستان کی جماعتوں کا تعلق ہے یہ عجیب بات ہے کہ جن علاقوں میں زیادہ سخت ابتلاء آئے ہیں اور احمدیوں کو غیر معمولی قربانی کی توفیق ملی ہے ان علاقوں میں چندے کا معیار پہلے سے بلند ہو گیا ہے۔مثلاً تھر پارکر ہے اس دور میں کلمہ طیبہ کیلئے سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر تھر پار کرنے قربانی دی ہے، سینکڑوں کی تعداد میں کام کرنے والے نوجوان جیلوں میں گئے۔اور بعض ایسے بڑے بڑے زمیندار تھے جہاں مینیجر اور منشی وغیرہ جیلوں میں چلے گئے اس سے کام کو بہت نقصان پہنچا۔بعض جائزے میں نے منگوائے تو پتہ چلا کہ محض خاص وقت پر ان کے اچھے کارندوں کے جیل میں جانے کے نتیجہ میں فصلوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔اس پہلو سے دنیا کے لحاظ سے انسان یہی سوچتا ہے کہ وہاں چندوں میں کمی آئی ہوگی۔مگر سارے پاکستان میں گذشتہ سال کے مقابل پر چندوں میں سب سے زیادہ اضافہ ضلع تھر پارکر میں ہوا ہے۔بائیس ہزار کے مقابل پر چالیس ہزار سے زائد رقم انہوں نے سترہ دسمبر تک ادا کر دی تھی اور ابھی یہ وصولیاں جاری ہیں۔یہ بات بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ جہاں قربانی کی توفیق عطا فرماتا ہے وہاں نیکی کی