خطبات وقف جدید — Page 297
297 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اس غرض سے ہندوستان میں بھی وقف جدید کی تحریک کو مضبوط کیا جائے نیز اس غرض سے کہ پاکستان میں بھی جہاں کام پھیل رہا ہے اور نئی ضرورتیں پیدا ہوئی ہیں اس کام کو تقویت دی جائے۔میں اس سال وقف جدید کی مالی تحریک کو پاکستان اور ہندوستان میں محدود رکھنے کی بجائے ساری دنیا پر وسیع کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔اس سے پہلے وقف جدید صرف پاکستان تک محدود تھی اور باہر سے اگر کوئی شوقیہ حصہ لینا چاہے تو اس سے چندہ لے لیا جاتا تھا لیکن کبھی تحریک نہیں کی گئی۔اسکا چندہ اتنا تھوڑا ہے یعنی چندے کا جو آغاز ہے وہ اتنا معمولی ہے کہ باہر کی دنیا کے احمدیوں کی بھاری تعداد بسہولت آسمیں شامل ہو سکتی ہے ان کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ ہم کوئی مالی قربانی میں اضافہ کر رہے ہیں۔اور اجتماعی طور پر اس کا فائدہ ہندوستان اور پاکستان کی وقف جدید کو نمایاں طور پر پہنچے گا۔خصوصاً ہندوستان میں تو اتنی زیادہ طلب پیدا ہورہی ہے احمدیت کے لٹریچر کی اور احمدی معلمین کی کہ ایک ایک علاقے کیلئے بھی اگر موجودہ وقف جدید کے سارے وسائل کام میں لائے جائیں تو وہ پورے نہیں اترتے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آندھرا پردیش میں حیدرآباد کے اردگرد کے علاقے میں ضرورت کے پیش نظر ان کا مطالبہ تو یہ ہے کہ ساری وقف جدید ہمیں دے دی جائے ادھر کشمیر کا مطالبہ یہ ہے کہ ساری وقف جدید ہمیں دے دی جائے۔اسی طرح ماحول قادیان کا مطالبہ یہ ہے کہ ساری وقف جدید کو مزید کئی گنا زیادہ وسعت دی جائے اور پھر یہ ہمارے لئے مخصوص کر دی جائے۔یعنی اتنی زیادہ ضرورت ہے کہ کئی گنا بھی وقف جدید کو بڑھا دیا جائے تو وہ ضرورت پوری نہیں ہو سکتی۔اسلئے لازما ہمیں ان ضرورتوں کو کسی طریق پر پورا کرنا ہے۔اور اگر ہم فوری طور پر معلم پیدا نہیں کر سکتے تو لٹر پر بھجوا کے پیسٹس بھجوا کے اس ضرورت کو پورا کیا جانا چاہیے۔اس کے لئے اب ایک نیا نظام جاری کرنا پڑے گا۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اگر باہر کی دنیا کو موقع دیا جائے تو یہ وقت کی ایک عظیم الشان ضرورت ہے انہیں اسے پورا کرنے کی توفیق ملے گی۔اور دوسرے یہ کہ کوئی وجہ نہیں کہ باہر کے احمدی پاکستان اور ہندوستان کی دینی خدمتوں سے محروم رہیں جبکہ ہندوستان اور پاکستان کے احمدی کبھی بھی بیرونی خدمتوں سے محروم نہیں رہے بلکہ ساری دنیا میں خدا کے فضل سے جو احمدیت قائم ہوئی ہے اس میں سب سے بڑا کردار سب سے نمایاں کردار پہلے ہندوستان کے احمدیوں نے اور پھر ہندوستان اور پاکستان کے احمدیوں نے ادا کیا۔باقی دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کو بھی طبعاً یہ طلب ہونی چاہیے کہ ہم کیوں ان علاقوں کی خدمت سے محروم رہ جائیں جنہوں نے ایک زمانہ میں عظیم الشان قربانیاں کر کے ساری دنیا میں اسلام کا بول بالا کیا ہے۔اس قدرتی جذبے کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ان تحریکوں کو ساری دنیا پر پھیلا دیا جائے۔قربانی کے لحاظ سے باہر والوں کے لئے بہت معمولی رقم ہوگی۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ