خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 296 of 682

خطبات وقف جدید — Page 296

296 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے ساتھ بیسوں نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں وہاں زیادہ تر خدمت کی توفیق وقف جدید ہی کو ملی ہے۔لیکن ایک حصہ ابھی تک تشنہ ہے۔اس علاقے میں ایک اندرونی طلب پائی جاتی ہے کہ ہم تک بھی کوئی پہنچے لیکن ابھی تک ہم وہاں نہیں پہنچ سکے۔پرانے کارزار کا وہ علاقہ جہاں کسی زمانے میں شدھی کی تحریک چلی تھی اور اسکے جواب میں جماعت احمدیہ نے نہایت ہی موثر کارروائی کی تھی یہاں تک کہ سارے ہندوستان میں احمدیت کی عظمت کا ڈنکا بجنے لگا تھا اس علاقہ میں ہمارے ایک معلم گئے ان کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پھر ان کے حالات قابل فکر ہیں۔اگر چہ فی الحال حالت اتنی خراب نہیں ہوئی مگر قابل فکر ضرور ہے کیونکہ انہیں قوموں میں دوبارہ شدھی کی تحریک مخفی طور پر چلا دی گئی ہے اور بعض جگہ اسکے اثرات نظر آنے شروع ہو گئے ہیں۔چنانچہ ہمارے احمدی معلم جو وہاں دورے پر گئے انہوں نے لکھا کہ جب میرا ان سے رابطہ قائم ہوا اور ان کو بتانا شروع کیا تو یہ محسوس ہوا کہ وہ خود نہیں چاہتے کہ ہندوؤں میں واپس چلے جائیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں کوئی انکو سنبھالنے والا نہیں۔اسلئے میں ہندوستان کی وقف جدید کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ باقی علاقوں کے علاوہ پرانے شدھی کے علاقوں کی طرف بھی توجہ کریں۔ہندوستان کے لئے مشکل یہ ہے کہ ایک تو وہاں واقفین کی تعداد بہت تھوڑی ہے کیونکہ وہ نسبت کے لحاظ سے جماعت کی تعداد ہندوستان کے مقابل پر بہت تھوڑی ہے۔پچھلے دنوں وہاں سے ایک صحافی دوست آئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے اندازے کے مطابق تین لاکھ احمدی ہیں۔تو تین لاکھ ہندوستان کے ستر اسی کروڑ کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔دوسرے جماعت میں جو متمول طبقہ ہے الا ماشاء اللہ اس میں چندوں کے اعتبار سے کچھ کمزوری پائی جاتی ہے وہاں کے بعض علاقے جن کے نام لینے مناسب نہیں پہلے چندوں میں بہت آگے تھے اب بالکل ست پڑ چکے ہیں تو مالی لحاظ سے بھی وہاں کمزوری ہے اور کارکنان کے لحاظ سے بھی کمزوری ہے۔مالی اعتبار سے تو میں نے پیغام بھیجا ہے کہ آپ تبلیغ کا پروگرام بنائیں اور اس میں کسی قسم کی کنجوسی نہ دکھا ئیں۔اپنے ارادے بلند رکھیں ، اپنے پروگرام کو وسیع کریں۔جہاں تک روپے کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ روپیہ آپ کو باہر سے ملنا شروع ہو جائے گا، جو بھی سلسلے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ وہ خود پوری کر دیتا ہے۔اور جہاں تک کارکنان کا تعلق ہے یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہندوستان کو بھی نئے کارکنان پیدا کرنے پڑیں گے اس کیلئے ان کو چاہیے کہ وہ دورے کریں ، قادیان کے ناظر صاحبان دورے کریں، ضروری نہیں کہ وقف جدید ہی پر انحصار ہو۔نوجوانوں کو توجہ دلائیں اور وقف کی تحریک کریں۔ڈاکٹرز، ٹیچرز یعنی اسا تذہ اور خاص طور پر جو لوگ ریٹائر ہو چکے ہیں ان کو اس تحریک میں شامل کریں۔امید ہے کہ عام لوگوں میں تبلیغ کے لئے جتنا علم ضروری ہے اللہ تعالیٰ اس علم کے اچھے کارکنان مہیا کر دے گا۔