خطبات وقف جدید — Page 23
23 23 حضرت مصلح موعود خطبه جمعه فرموده 10 جنوری 1958 ء بیت مبارک ربوہ) سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ہماری جماعت کی حالت کا نقشہ سورۃ انفال کی آیت نمبر 17،16 رکوع نمبر 2 میں کھینچا گیا ہے اور اس نقشہ کو شیخ سعدی نے ایک حکایت کے رنگ میں اپنی کتاب ” گلستان میں بیان کیا ہے۔ہم بچپن میں وہ شعر پڑھا کرتے تھے تو بہت مزہ آیا کرتا تھا۔یوں تو جب ہم بڑے ہوئے تو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے ہمیں مثنوی مولانا روم بھی پڑھائی تھی مگر وہ زمانہ جب ہمیں مثنوی مولانا روم پڑھائی گئی 1911ء یا 1912 ء کا زمانہ تھا اور گلستان اور بوستان اس سے پہلے زمانہ میں ہمیں شروع کرائی گئی تھی۔شیخ سعدی نے گلستان میں ایک کہانی لکھی ہے کہ ایک بادشاہ تھا جس کے کئی بیٹے تھے اس کے اور تو سب بیٹے نہایت خوبصورت تھے اور بادشاہ ان سے بہت محبت کیا کرتا تھا لیکن ایک لڑکا بہت چھوٹے قد کا تھا اور اس کی شکل بھی نہایت مکر وہ تھی اس سے وہ سخت نفرت کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایک بادشاہ جو اس سے دشمنی رکھتا تھا اور جس کی طاقت بہت زیادہ تھی اس پر حملہ آور ہوا۔جب اس کی فوج نے اس بادشاہ کے دائیں اور بائیں بڑے زور سے حملہ کیا تو اس کی ساری فوج بھاگ گئی اور میدانِ جنگ میں صرف چند آدمی بادشاہ کے ساتھ رہ گئے۔جب بادشاہ نے دیکھا کہ اب دشمن مجھے بھی حملہ کر کے قید کر لے گا تو یکدم صفوں کو چیرتا ہوا ایک سوار نکلا۔جس نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑا ہوا تھا وہ پوری ہمت کے ساتھ اپنے دائیں اور بائیں نیزہ چلاتا ہوا آ رہا تھا جس کی وجہ سے دشمن کی فوج تتر بتر ہوگئی۔پھر اس نے بادشاہ کی بچی کچھی فوج کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن فوج بھاگ گئی۔وہ شخص حملہ کرتا جا تا تھا اور کہتا جاتا تھا آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من آں منم کاندر میان خاک و خوں بینی سرے یعنی میں وہ نہیں ہوں کہ جنگ کے دن تو میری پیٹھ دیکھے بلکہ جنگ کے دن تو صرف میرا منہ دیکھے گا میری پیٹھ نہیں دیکھے گا اور اگر کوئی شخص مجھ سے میرا کچھ حال پوچھنا چاہے تو میں اسے یہ بتا تا ہوں کہ میں جب لڑائی میں آؤں گا تو وہ میرے سر کو خاک اور خون میں لتھڑا ہوا پائے گا یعنی میں قتل ہو جاؤں گا لیکن بھا گوں گا نہیں۔جب فتح ہوئی تو بادشاہ نے پہچان لیا کہ وہ اس کا وہی بیٹا ہے جس سے وہ نفرت کیا کرتا