خطبات وقف جدید — Page 281
281 حضرت خلیفہ المسح الرابع کے ان بندوں کی چند روزہ صحبت کے نتیجہ میں اس میں تبدیلی پیدا ہوگئی اور اس نے خودان احمد یوں کو بتایا کہ ایک دن میں نے اپنے رب سے بہت دعا کی کہ اے خدا مجھے تو یہ احمدی تیرے اچھے بندے نظر آ رہے ہیں اگر یہ حق پر ہیں اور واقعہ تیرا ان سے تعلق ہے تو مجھے بھی ایک نشان دکھا کہ یہ دو مظلوم سید بھائی جو قید میں ہیں انہیں کل رہا کروا دے تو پھر میں مانوں گا کہ ان کا بھی کوئی خدا ہے اور پھر مجھے یقین ہوگا کہ واقعی یہ تیرے مقرب بندے ہیں۔چنانچہ وہ غیر احمدی قیدی رات دعا کر کے سوئے اور صبح ساڑھے پانچ بجے احمدیوں کو جا کر یہ خوشخبری دی کہ آج تم آزاد ہو جاؤ گے۔چنانچہ عین اسی دن جیل کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ جیل سے باہر جارہے تھے۔اس پر وہ احمدی جو قید تھا کہتا ہے کہ ان کے پاس گیا اور سوال کیا کہ یہ کیا عجیب واقعہ ہوا ہے؟ تو اس غیر احمدی قیدی نے بتایا کہ رات مجھے خدا تعالیٰ نے خواب میں خبر دے دی تھی کہ ہم نے تیری دعاؤں کو قبول کر لیا ہے اور صبح تو یہ رحمت کا نشان دیکھے گا لہذا مجھے کامل یقین تھا اور میں نے صبح ساڑھے پانچ بجے جا کر خبر دی تو خدا تعالیٰ کی اطلاع کے نتیجہ میں خبر دی تھی نہ کہ اپنی طرف سے۔پس ان لوگوں کا عجیب حال ہے جو بیچارے قطبوں کو چور بنا کر جیلوں میں پھینک رہے ہیں اور وہ جیلوں میں جانے والے معصوم ان کے چوروں کو بھی قطب بنا رہے ہیں یہ ہے عظیم الشان روحانی انقلاب جو اس ملک میں برپا ہو رہا ہے۔جو احمدی دوست قید میں تھے وہ بتاتے ہیں کہ ہم چار بھائی ہیں تین بالغ اور ایک چھوٹا ہے۔ہم تینوں کو اسی قسم کے الزامات کے نتیجہ میں پکڑ کر جیل بھیج دیا گیا اور ہمارے ماموں کو بھی ساتھ ہی جیل بھیج دیا گیا۔چنانچہ وہ رستا بستا گھر اچانک خالی ہو گیا اور سوائے ماں اور ایک نابالغ بچے کے اس گھر میں کوئی مرد ایسا نہیں رہا جو ان کی دیکھ بھال کر سکتا۔ان کا بیان ہے کہ آخر خدا تعالیٰ نے جب ہمیں نجات بخشی تو ہم ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوئے کہ پتہ نہیں ماں کو کس حال میں دیکھیں گے۔جب گھر گئے تو دیکھا کہ ماں تو پہلے سے بھی زیادہ خوش تھی اور بڑی اچھی صحت اور بڑے حوصلہ میں تھی تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ تیرے تین جوان بیٹے اور ایک بھائی قید ہو گیا مگر تمہارے چہرہ پر کوئی اثر ہی نہیں تو عجیب ماں ہے۔اس پر انکی ماں نے کہا کہ بیٹا تجھے علم نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔جس روز تمہیں پکڑ کر لے گئے تو اس پہلی رات کا اول حصہ ایسا دردناک عذاب تھا کہ تم تصور نہیں کر سکتے میں رو رو کر ہلاک ہورہی تھی گریہ وزاری اور واویلا کر رہی تھی کہ اس گھر کے ساتھ کیا ہو گیا ہے اور اسی طرح روتے روتے میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں اللہ تعالیٰ نے ایک بزرگ صورت انسان کو دیکھایا جس نے پیار اور دلجوئی کا سلوک نہیں کیا بلکہ اس نے آتے ہی بڑی سختی سے مجھے ڈانٹا کہ اے عورت تو کیا کر رہی ہے خبردار! جو آئندہ ایک بھی آنسو بہایا تو مجاہدوں کی ماں ہے اور تیرے ساتھ خدا ہے پھر یہ حرکتیں؟