خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 277 of 682

خطبات وقف جدید — Page 277

277 حضرت خلیفہ مسیح الرابع داخل ہوئے ہیں اور اللہ کے فضل سے وہ جگہ جو پہلے بڑی کھلی دکھائی دیا کرتی تھی وہ بالکل چھوٹی ہو کر رہ گئی ہے۔چنانچہ وہاں بھی خدا تعالیٰ نے توفیق دی۔اگر چہ دو، تین دن قیام تھا لیکن پھر بھی جماعت نے بڑی بھاگ دوڑ کی اور نئی جگہیں تلاش کیں اور پہلی جگہ کو بھی نئی وسعت دینے کیلئے آرکیٹکٹ بلا کر ان سے معاملات طے ہوئے۔تو ہم امید کرتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہالینڈ میں بھی ہمارے مشن دو طرح سے جلد وسعت پذیر ہوں گے ایک تو موجودہ عمارت کی توسیع کی جائے گی اور دوسرے وہاں ایک نیا مشن قائم کرنا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ جرمنی پہنچنے پر پتہ چلا کہ وہاں تو ہیمبرگ میں بھی ضرورت ہے، کولن ایک جگہ ہے وہاں بھی ضرورت ہے اور میونخ میں بھی ضرورت ہے۔وہاں تو جماعتیں شور مچا رہی تھیں کہ ہماری ضرورتیں پوری کرو، آپ ایک مشن کی بات کر رہے ہیں یہاں تو جگہ جگہ خدا کے فضل نے مشوں کے تقاضے کر رہے ہیں چنانچہ ہمیں فیصلہ کرنا پڑا کہ ایک تو فرینکفرٹ کے قریب بڑا مرکز قائم کیا جائے چنانچہ اس کے لئے وہاں خدا کے فضل سے ایک بہت اچھی اور با موقع جگہ پسند کر لی گئی ہے اور میں نے Negotiation کے لئے کہہ دیا ہے۔بہر حال اس کی جو قیمت بھی طے ہو گی ہم انشاء اللہ دیں گے۔ہمبرگ مشن کو بھی ہدایت کر دی گئی ہے۔ان کی دو تین تجاویز بھی سامنے آئیں لیکن وہ ابھی پوری نہیں تھیں۔ان سے میں نے کہا تھا کہ وسیع جگہ خریدیں مگر ان کے حوصلہ کی چھلانگ ( شاید اس وجہ سے کہ اس سے اگلے پانچ یا دس سال کی ضرورتیں پوری ہو جائیں گی ) یہ تھی کہ انہوں نے چھوٹی جگہ تجویز کی تو ان سے میں نے کہا کہ آپ گذشتہ لوگوں کی محنت کا پھل کتنے سال تک کھاتے رہے ہیں، اب ان کا شکر یہ ادا کرنے کا تو یہ طریق ہے کہ آپ یہ ارادہ کریں کہ آئندہ ہیں یا تمہیں سال تک کی ضروریات کیلئے آپ نے ایک کشادہ جگہ لینی ہے اور پھر دعا یہ کریں کہ خدا کرے کہ اگلے سال ہی ہمیں اور جگہ لینی پڑے۔پس یہ ڈھنگ قدرت نے ہمیں سکھائے ہیں اور اسی طریق پر خدا تعالیٰ نے دنیا میں نشو و نما جاری فرمائی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے یہ جاری قوانین ہیں جن کے نتیجہ میں تمام کائنات ترقی پذیر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی اس سنت مستمرہ کو دیکھ کر جب ہم اس سے زندہ رہنے کے اسلوب سیکھتے ہیں تو پھر یہی نتائج سامنے آتے ہیں جو میں آپ کے سامنے سنا رہا ہوں۔جب ہم سوئٹزر لینڈ گئے تو وہاں بھی مسجد اور مشن ہاؤس کی جگہ بہت چھوٹی نظر آئی۔اگر چہ وہاں بہت زیادہ مہنگائی ہے لیکن پھر بھی ہمیں اپنی فوری ضروریات تو بہر حال پوری کرنی ہیں۔سوئٹزر لینڈ میں انگلستان کے مقابل پر جائیدادوں کی قیمتیں دس گنا سے بھی زیادہ ہیں بہر حال ایک جگہ سے متعلق تو انکا مطالبہ تھا کہ ہمیں وہ جگہ جلد لے کر دی جائے مگر ان سے میں نے کہا ہے کہ آپ لوگ چونکہ تبلیغ میں ست ہیں