خطبات وقف جدید — Page 271
271 حضرت خلیفہ مسیح الرابع تقومی محنت اور کسب سے کمایا جاتا ہے اور ایک وہ حالات جبکہ تقویٰ خدا تعالیٰ کے فضل اور اسکی رحمت کی بارش کی طرح آسمان سے برستا ہے۔چنانچہ جماعت احمد یہ اس وقت ایسے ہی دور میں داخل ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ کے احسانات کے جو کرشمے ہم دیکھ رہے ہیں اور جو نیکیاں دلوں کو عطا ہورہی ہیں ، اللہ تعالیٰ کے رضوان کی جو محبت دلوں میں بڑھ رہی ہے، جو عبادات کا ذوق و شوق پیدا ہورہا ہے اور جماعت میں جو حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں ان میں جماعت کے کسب کا کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی اس میں کسی انتظامی کوشش یا جدو جہد کا کوئی حصہ ہے بلکہ یہ تقولى مِنَ اللہ ہی ہے جو خدا تعالیٰ کے فرشتے خالصاً قلوب پر نازل فرما رہے ہیں اور جس کے نتیجہ میں خدا تعالی نی نئی عظیم الشان عمارتوں کی خوشخبری دے رہا ہے اور اس تقوای پر ایسے عظیم الشان کاموں کی بنیادیں قائم کر رہا ہے کہ جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت ایک بالکل نئے انقلابی دور میں داخل ہو جائے گی۔پس تقوى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانِ ان دونوں کوا س طرح اکٹھا بیان کرنا صاف ظاہر فرماتا ہے کہ جب یہ دور قوموں پر آتا ہے کہ ان پر تقویٰ بارش کی طرح برسنے لگتا ہے اور خدا کی رضا نازل ہورہی ہوتی ہے تو ایسے دور میں بعض ایسے بدقسمت بھی پیدا ہور ہے ہوتے ہیں جو خدا کے ان پاک بندوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ایک طرف یہ جماعت خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تقویٰ پر اپنے سارے منصوبوں کی بنیا د رکھتی ہے اور دوسری طرف انہیں مٹانے کے ناپاک منصوبے اس حسد کی آگ پر مبنی ہوتے ہیں جو ان کی ترقی کو دیکھ کر دلوں میں بھڑک رہی ہوتی ہے اور پھر اسی آگ میں ہی وہ حاسدین جاپڑتے ہیں اور بالآخر اسی آگ کا ایندھن بنا دیئے جاتے ہیں فرمایا ! تم ان دونوں حالتوں میں سے کونسی قبول کرو گے کیونکہ یہ تو انسان کے بس میں ہے کہ جب اسے دو راستے دکھا دیئے جائیں تو ان میں سے جو بھی وہ اپنے لیے پسند کرے اسے اختیار ہے۔ان آیات میں آجکل کے حالات کا اتنا کھلم کھلا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے کہ ایک انسان جس میں کچھ بھی بصیرت ہوا اسکے لیے اپنی نجات کا رستہ اختیار کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا لیکن جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے جب قوموں پر ایسے وقت آتے ہیں تو ان کی آنکھوں کا نور زائل ہو جاتا ہے اور وہ آگ کی تپش ان کے دل و دماغ کی طاقتوں کو بھسم کر دیتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْارِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ کہ پھر وہ لوگ جوحسد کی آگ پر منصوبے بناتے اور عمارتیں تعمیر کرتے ہیں ان میں اندرونی طور پر رخنے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور دراڑیں آنے لگ جاتی ہیں اور ان کے اندر سے ہی شکوک جنم لینے لگتے ہیں اور ان کے یقین کی حالت شک و شبہ میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔اور پھر ایک ایسا وقت آتا ہے