خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 270 of 682

خطبات وقف جدید — Page 270

270 حضرت خلیفہ امسیح الرابع خطبه جمعه فرموده 4 جنوری 1985 ء بیت الفضل لندن تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل قرآنی آیات تلاوت فرمائیں۔أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَمْ مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَاجُرُفٍ هَارٍ فَانُهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ o لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوُا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ، وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ هِ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ، يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ قَف وَعْدَا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآن وَ مَنْ اَوْ فِى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا ببَيْعِكُمُ الَّذِى بَايَعْتُمُ به « وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ط b ( سورة التوبة آیت 109 تا 111) اور پھر فرمایا: جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں یہ سورہ تو بہ سے لی گئی ہیں ان میں اللہ تعالی یہ بیان فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے کاموں کی بنیاد میں خدا کے تقویٰ پر استوار کرتے ہیں جنکی تمام عمارات ، تمام منصوبے اور سارے کاروبار اللہ کے تقویٰ پر قائم ہوتے ہیں اور وہ خدا کی رضا سے طاقت حاصل کر کے آگے بڑھتے ہیں کیا ایسے لوگ بہتر ہیں یا وہ جن کی بنیادیں ریت کے ایک ایسے کنارے پر قائم کی گئی ہوں جو آگ کا کنارہ ہو۔پس ایسے کنارے پر قائم کردہ بنیادیں اپنے اوپر قائم ہو نیوالی عمارتوں اور انکے مکینوں سمیت جہنم میں جا پڑتی ہیں۔وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔یہاں خدا تعالیٰ نے اسس بُنيَانَهُ عَلى تَقُوی نہیں فرمایا بلکہ تَقُواى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَان فرمایا ہے جو عام قرآنی اسلوب سے ایک مختلف اسلوب ہے اور اس میں ایک بڑی گہری حکمت ہے۔یہاں یہ مراد نہیں کہ انسان اس تقویٰ پر بنیاد میں قائم کرتا ہے جو کسی حد تک اس کے اختیار اور بس میں ہے بلکہ یہاں ایک خوشخبری کے رنگ میں مومنوں کا نقشہ یہ کھینچا گیا ہے کہ عـلـى تـقـوى مِنَ الله انکی عمارتیں ایسے تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں عطا ہوتا ہے یعنی اس میں انسانی کسب کا اتنا حصہ نہیں ہوتا جتنا حصہ خدا تعالیٰ کی عطا اور رحمت کا ہوتا ہے۔اس مضمون پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ قوموں پر دو قسم کے حالات آتے ہیں ایک وہ جس میں