خطبات وقف جدید — Page 258
258 حضرت خلیفہ مسیح الرابع خطبه جمعه فرموده 6 جنوری 1984 ء بیت اقصی ربوہ ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: 1984 عیسوی یا 1363 ہجری شمسی کا یہ پہلا جمعہ ہے۔سب سے پہلے تو میں آپ سب کو نئے سال کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے اور ہر پہلو سے یہ سال تمام احمدیوں کیلئے تمام مسلمانوں کیلئے اور تمام بنی نوع انسان کیلئے مبارک فرمائے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کیلئے یہ سال بے انتہا برکتیں لے کر آئے۔دوسرے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ ہر سال پہلے جمعہ میں وقف جدید انجمن احمدیہ کے نئے سال کا اعلان ہوتا ہے۔اسلئے اس موقع پر میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں۔گزشتہ سال جس طرح خدا تعالیٰ نے ہر شعبہ پر ہر انجمن پر اور ہر ذیلی تنظیم پر بے انتہا فضل فرمائے اور ہر پہلو سے جماعت کا قدم نمایاں ترقی کی طرف اٹھا وہاں وقف جدید بھی اللہ کے فضلوں کی وارث بنی۔اور خدا تعالیٰ نے چندوں میں غیر معمولی برکت بخشی اور اس کے کام میں بھی برکت عطاء فرمائی۔چنانچہ چندہ بالغان جو 1982ء میں نو لاکھ کے بجٹ کے مقابل پر 7,08,392 روپے وصول ہوا تھا 1983ء میں 10,07,775 روپے تک پہنچ گیا۔گویا گزشتہ سال کے مقابل پر 2,99,383 روپے کا اضافہ ہوا جبکہ باقی چندوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔اور وقف جدید کی تحریک کیطرف نسبتاً کم توجہ ہوتی ہے۔انجمنوں میں سے اسے تیسرے درجے کی انجمن سمجھا جاتا ہے۔اسلئے عموماً بچا ہوا مال وقف جدید کی طرف منتقل ہوتا ہے پس یہ اللہ تعالیٰ کی بے حد رحمت ہے اور اس کا کرم ہے کہ غیر معمولی کوشش اور غیر معمولی تحریک کے بغیر بھی خدا تعالیٰ نے اس تحریک کی جیب بھی بھر دی اور توقع سے بڑھکر وصولی ہوئی۔دفتر اطفال کا بجٹ 15,000, 2 روپے کا تھا۔1982ء میں اس کی وصولی 1,41,000 تھی لیکن گزشتہ 1983 ء میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ وصولی بھی بڑھ کر 2,20,000 تک پہنچ گئی۔اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی نمایاں ترقی ہوئی اور کل اضافہ جو گزشتہ سال کے بجٹ کے مقابل پر ہوا ہے وہ 3,94,523 روپے کا ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ جماعت امسال بھی اسی طرح قربانی کی روح کا مظاہرہ کریگی اور وقف جدید کو بھی مالی قربانی میں محض اللہ شامل کرتی رہے گی۔وقف جدید کے سلسلہ میں یہ