خطبات وقف جدید — Page 254
254 حضرت خلیفہ المسح الرابع اسلام کے نام کو غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔الغرض اس قسم کی کچھ بالکل معمولی انتظامی سختیاں تھیں جو کی گئیں۔لیکن بہر حال میرا یہ فیصلہ تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو رفتہ رفتہ مزید سختی کی جائے گی اور اس سختی کے لئے سب سے پہلے میں نے اپنے آپ کو چنا۔میرا فیصلہ یہ تھا کہ پیشتر اس کے کسی احمدی بچی کو نعوذ باللہ من ذالک بے پردگی کی وجہ سے جماعت سے نکالنا پڑے، پہلے میں اپنے دل پر سختی کروں گا۔ان کیلئے راتوں کو اٹھ کر روؤں گا اپنے رب کے حضور عاجزانہ عرض کروں گا کہ اے اللہ ! ان بچیوں کو بچا اور مجھے توفیق دے کہ میں پہلے تنبیہ کے تقاضے پورے کروں۔اس کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھاؤں ، نرمی محبت اور پیار سے ، جس طرح بھی بن پڑے میں ان کو سمجھاؤں اور واپس لانے کی کوشش کروں۔ان کی ذمہ داریاں انکو بتاؤں جب یہ سارے نقاضے پورے ہو جائیں اور ہر قسم کی حجت تمام ہو جائے، پھر تو ایسا فضل کر کہ سختی کا موقع پیش ہی نہ آئے۔یہ میرا فیصلہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور اس کے احسانات کو آدمی گن نہیں سکتا کہ اس چیز کا موقع ہی نہیں آنے دیا۔احمدی عورت نے حسن و احسان کا اتنا حیرت انگیز ردعمل دکھایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے سامنے سر جھک جاتا ہے۔اب میں مردوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ اگر انکی بچیوں نے اسلام کی خاطر کچھ فیصلے اور عزم کئے ہیں تو ان کی راہ میں روک نہ ڈالیں۔اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ خدا کے سامنے دوہرے طور پر جوابدہ ہوں گے اور پھر وہ خودان نتائج کے ذمہ دار ہوں گے جو اس کے نتیجہ میں پیدا ہوں اور ظاہر ہوں۔اس مختصرسی تنبیہ پر ہی میں اکتفا کرتا ہوں اور سمجھنے والے سمجھیں گے کہ اگر کوئی احمدی بچی خدا کی خاطر ایک پاکیزہ اور عصمت والی زندگی اور حفاظت والی زندگی اور قناعت والی زندگی بسر کرنا چاہتی ہے تو کسی مرد کو ہرگز اس کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہئے یہ چیز خود ان کے لئے اور ان کے گھروں کے لئے بہتر ہے ان کے گھروں کو جنت بنانے کیلئے یہ ضروری ہے۔بعض لوگ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اس بات کو نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی فیشن میں ہے۔حالانکہ فیشن میں کوئی زندگی نہیں اصل زندگی تو اس فیشن میں ہے جو دین کا فیشن ہے۔اس میں نہیں ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوفرمایا کہ یہ زندگی کے فیشن سے دور جاپڑے ہیں۔پس زندگی کا فیشن تو ہم آنحضرت ﷺ سے سیکھیں گے نہ کہ کسی اور سے۔ایک چیز جو بعض دفعہ بچیوں کو بھی پریشان کرتی ہے اور بعض دفعہ مردوں کو بھی ، وہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پردہ اختیار کرنے کی وجہ سے سوسائٹی ہمیں ادنیٰ اور حقیر سمجھے گی۔وہ کہے گی یہ اگلے وقتوں کے لوگ