خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 19 of 682

خطبات وقف جدید — Page 19

19 حضرت مصلح موعود سب انسپکٹر بنے ، پھر پراسیکیوٹنگ انسپکٹر بنے۔اس وقت تنخواہیں بہت تھوڑی تھیں آجکل تو ایک سپاہی کو مہنگائی الاؤنس وغیرہ ملا کر قریباً ساٹھ روپیہ ما ہوا مل جاتے ہیں لیکن ان دنوں سپاہی کو غالباً گیارہ روپے اور تھانیدار کو چالیس روپے اور انسپکٹر کو 75 یا سو روپے ملتے تھے اور پراسیکیوٹنگ افسر کو سو سے کچھ زیادہ ملتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ وہ اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوبھجوایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کو یکدم آرڈر آ گیا کہ ان کو عہدہ میں ترقی دی جاتی ہے اور تنخواہ اتنی بڑھائی جاتی ہے۔اس کے بعد ان کی تنخواہ میں جو بڑھوتی ہوئی وہ ساری کی ساری وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ انھوں نے حضرت صاحب کو جو خط لکھا وہ حضرت مسیح موعود نے مجھے پڑھنے کے لئے دیا۔میں نے پڑھ کر بتایا کہ یہ خط چوہدری رستم علی صاحب کا ہے اور انھوں نے لکھا ہے کہ میں سورو پیہ تو پہلے ہی بھیجا کرتا تھا لیکن اب میری تنخواہ میں 80 روپے کی ترقی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض حضور کی دعاؤں کے طفیل ہوئی ہے اور آپ کے لئے ہوئی ہے اس لئے اب میں آپ کو 180 روپے ماہوار بھیجا کروں گا۔میں اس بڑھوتی کا مستحق نہیں ہوں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ میں تو پہلی تنخواہ کا بھی مستحق نہیں تھا وہ بھی اللہ تعالیٰ مجھے آپکی خاطر ہی دے رہا ہے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کو جو مالدار دیئے تھے وہ بھی کیسی کیسی قربانیاں کرتے تھے۔اور پھر ان قربانیوں میں بڑھتے چلے جاتے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے بیشک آخر میں ان میں بگاڑ پیدا ہوا لیکن شروع شروع میں وہ پشاور میں نہایت کامیاب وکیل تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک مقدمہ ہوا تو آپ نے خواجہ صاحب کو لکھا کہ اس اس طرح ایک مقدمہ ہے جس میں ایک احمدی وکیل کی نگرانی کی ضرورت ہے۔اس پر آپ اپنی کامیاب وکالت چھوڑ کر پشاور سے گورداسپور آگئے گو ایک بات ضرور ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ آخر شاید گرے بھی اسی کی وجہ سے تھے اور وہ یہ کہ جب ان پر تنگی آتی تھی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے روپیہ مانگ لیا کرتے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہی کمزوری بعد میں ان کی خرابی کی وجہ ہوئی ورنہ انھوں نے بھی بہت قربانی کی تھی بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی قربانی اپنے سب ساتھیوں سے زیادہ تھی۔مولوی محمد علی صاحب کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے بڑی قربانی کی۔انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور کی پروفیسری چھوڑی تھی۔اور اس وقت پروفیسری کی تنخواہ 90،80 روپے ماہوار ہوا کرتی تھی۔اور انھوں نے قادیان آکر انجمن سے 20 روپے ماہوار تنخواہ لی لیکن حقیقت میں ان کو نہیں نہیں بلکہ 120 روپیہ ماہوار تنخواہ ملا کرتی تھی ہیں روپے انجمن کی طرف سے ملتے تھے اور ایک سو روپے ماہوار ان کے لئے نواب صاحب انجمن کو دیا کرتے تھے۔غرض مولوی محمد علی صاحب نے تو قادیان