خطبات وقف جدید — Page 250
250 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کوئی نہیں اور اس کے نتیجے میں جو انتہائی خوفناک ہلاکتیں سامنے کھڑی قوم کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی ہیں ان ہلاکتوں کا کوئی احساس نہیں ہے۔ماں باپ اپنی بے عملی اور غفلتوں کے نتیجے میں اپنی نئی نسلوں کو ایک معاشرتی جہنم میں جھونک رہے ہیں۔اور کوئی نہیں جو اسکی پرواہ کرے یہ صورت حال ساری دنیا میں اتنی سنگین ہوتی جارہی ہے کہ مجھے خیال آیا کہ اگر احمدیوں نے فوری طور پر اسلام کے دفاع کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں نہ لیا تو معاملہ حد سے آگے بڑھ جائیگا چنانچہ جب جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ احمدی مستورات میں بھی یہ کمزوریاں داخل ہوگئی تھیں اور مجھے اس بات کی بہت فکر لاحق ہوئی۔اسلئے جلسہ کے دوسرے روز میں نے مستورات میں اپنی تقریر میں اپنی بچیوں کو سمجھایا اور انتظامی لحاظ سے بعض سختیاں بھی کیں مثلاً اگر پہلے بے پردہ مستورات کو سنیچ کا ٹکٹ مل جاتا تو اس دفعہ اس بارے میں خاص طور پر سختی کی گئی۔چنانچہ کچھ شکوے بھی پیدا ہوئے۔لیکن تقریر کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جس قسم کے خط مجھے اپنی بچیوں کی طرف سے موصول ہوئے ہیں ان سے یوں محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہر زخم کے اوپر اپنے فضل کا پھاہا رکھ رہا ہے اور اپنے رحم و کرم کی مرہم لگا رہا ہے اور اس نے کوئی دکھ بھی باقی نہیں رہنے دیا۔ان انتظامات سے پہلے اور اس تقریر سے قبل بعض لوگوں نے کچھ اندازہ لگالیا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں اور کیا کہنا چاہتا ہوں۔بعض ڈرانے والوں نے مجھے ڈرایا کہ دیکھو! اتنی جلدی ایسی سختی نہ کرنا۔خطرہ ہے کہ بہت سی بچیاں اس سختی کو برداشت نہ کر کے ضائع ہو جائیں گی۔اس لئے دھیرے دھیرے، رفتہ رفتہ ، آہستہ آہستہ قدم اٹھاؤ۔میں نے ان سے کہا کہ اب آہستگی کا وقت نہیں رہا کیونکہ معاملہ حد سے بڑھ چکا ہے۔آج فوری اقدام کی ضرورت ہے اور دوسرے یہ کہ تم جو یہ مشورہ مجھے دیتے ہو تم مجھ پر بھی بدظنی کر رہے ہو اور احمدی بیٹیوں پر بھی بدظنی کر رہے ہو۔میں تو اس آقا کا غلام ہوں جس نے کھوئی ہوئی بازیاں جیتی ہیں اور دعا کی تقدیر سے تدبیر کے پانسے پلٹے ہیں اور یہ بچیاں بھی اسی آقا کی غلام ہیں جس کی آواز پر اس کے غلاموں نے جاں نثاری کے ایسے نمونے دکھائے کہ دنیا انکو دیکھتی ہے تو باور نہیں کر سکتی کہ دنیا میں ایسی جاں نثار قوم بھی کبھی پیدا ہوسکتی ہے۔اس وقت میرا ذ ہن جنگ حنین کی طرف منتقل ہوا اور میں نے سوچا کہ کس طرح مسلمان فوج کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اور سواریاں بے قابو ہوئی جاتی تھیں یہاں تک کہ آنحضور ﷺ صرف چند غلاموں کے درمیان تنہا رہ گئے۔آپ اُس وقت ایک سفید خچر پر سوار تھے۔سب سے پہلا رد عمل تو آپ کا یہ ہوا کہ وہ دشمن جو صحابہ کے پیچھے دوڑ رہا تھا اس کو اپنی طرف متوجہ کیا ایک حیرت انگیز کردار ہے حضور اکرم ﷺ کا جس کو دیکھ کر روح سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔خدا نے ہمیں کتنا عظیم الشان آقا عطاء فرمایا ہے۔یعنی سب سے صلى الله