خطبات وقف جدید — Page 246
246 حضرت خلیفہ مسیح الرابع لطف کی بات یہ ہے کہ بعض پہلوؤں سے ہندوؤں کا معیار بہت بلند ہے۔جب شروع میں ہم نے ہندو علاقے میں کام کا آغاز کیا تو ہمارے سامنے ایک بڑی دقت یہ تھی کہ عیسائی مناد اور عیسائی پادری وغیرہ وہاں بے شمار خرچ کر رہے تھے۔ان دنوں باہر سے جو امداد آتی تھی وہ امریکہ خاص طور پر پا در یوں کے ذریعہ تقسیم کرواتا تھا۔میں اس وقت وقف جدید میں تھا۔چنانچہ مجھ پر بہت دباؤ ڈالا گیا کہ ہمیں بھی کوئی امدادی سکیم چلانی پڑے گی ورنہ ہم ناکام ہو جائیں گے۔مجھے اس علاقے کا دورہ کرنے کا بھی موقع ملا۔میں نے معلمین کو بھی اور دوسرے دوستوں کو بھی سمجھایا کہ یہ ایک گری پڑی قوم ہے جس کی عزت نفس کو صدیوں سے کچلا جارہا ہے۔ہم تو ان کو اعلیٰ انسان بنانے آئے ہیں۔اسے ادنیٰ درجے پر پہنچانے کیلئے نہیں آئے جس پر یہ اس وقت قائم ہیں۔اس ساری تذلیل اور انتہائی بدسلوک کے باوجود اس قوم میں بعض خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لین دین کے معاملے میں صاف ستھرے ہیں اور دوسری یہ کہ یہ بھیک نہیں مانگتے۔محنت کر کے کماتے ہیں۔میں نے کہا یہ ایک قدر اور خوبی جسے زمانے نے نہیں کچلا تم مجھے مشورہ دیتے ہو کہ اس کو بھی کچل دیا جائے۔ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔اسلام شرف انسانیت کو قائم کرنے کے لئے آیا ہے۔شرف انسانیت کو مٹانے کیلئے نہیں آیا۔میں نے ان سے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ پر تو کل کرو۔نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں روپے کی امدا دان ہندوؤں کو عیسائی بنانے میں نا کام ہوگئی اور ہم ساتھ جو چندہ بھی مانگتے تھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں کامیاب ہو گئے اور آج وہاں 143 ایسے گاؤں ہیں جہاں خدا کے فضل سے اسلام نافذ ہو چکا ہے۔ایک نواحمدی کے اخلاص اور ایمان کا واقعہ بھی آپ کو سنا دوں۔جب 1965ء کی جنگ ہوئی تو وقتی طور پر جس طرح جنگ کے دوران فوجیں کسی بارڈر پر آگے بڑھ جاتی ہیں اور کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔اسی طرح پاکستان کے اس بارڈر میں جہاں نو مسلم احمدی زیادہ ہورہے تھے ، وہاں ایک حصے میں ہندوستانی فوج آگے بڑھ رہی تھی۔ہندوستانی فوجیوں نے بعض نومسلموں کو زدوکوب کیا اور بہت دباؤ ڈالا کہ کسی طرح وہ ارتداد اختیار کر جائیں، بعض شدھ ہو جائیں۔ان میں سے ایک نو مسلم کو چار پائی پر باندھ دیا گیا اور پتے اکٹھے کر کے اس کے نیچے آگ لگادی گئی اور اس سے کہا کہ اگر آج تم نے اسلام سے تو بہ نہ کی تو جل کر یہیں خاک ہو جاؤ گے۔اس نے بڑے اطمینان سے کہا کہ ہاں میں جل کر خاک ہو جاؤں گا لیکن اس مذہب میں واپس نہیں جاؤں گا جس سے نکل کر میں اسلام میں داخل ہوا تھا۔اس نو مسلم احمدی کی اس بات میں ایسا عزم تھا کہ بھارتی فوجی افسر نے اپنے فیصلے کو بدل دیا اور کہا کہ اس آگ کو یہاں سے ہٹا دو۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام ظاہری نشان میں بھی پورا ہوا کہ