خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 229 of 682

خطبات وقف جدید — Page 229

229 حضرت خلیفہ امسح الثالث تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ جو آپ کو پہاڑ نظر آرہے ہیں میں ان کے اوپر ہوں متعین فرشتہ ، کہ اگر آپ طائف کیلئے بد دعا کریں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو یوں اکٹھا کر دوں ، ان کے اوپر ، اور یہ پس جائیں جس طرح چکی میں چیز پیسی جاتی ہے۔آپ نے کہا نہیں میں بددعا نہیں کروں گا ان کے لئے۔اس لئے کہ یہ نسل آگے چلانے والی جنس ہے ، نوع ہے۔یہ نسل ہے، اس کے بعد ایک اگلی نسل پیدا ہوگی اور ان میں بڑے فدائی اسلام کے پیدا ہوں گے۔تو آنے والی نسلوں نے اس ظالم نسل کی حفاظت کر لی اس وقت۔اور نبی کریم ہی ہے کو خدا تعالیٰ نے اذن دیا کہ بددعا کریں اور میں قبول کروں گا حکم نہیں دیا۔اذن دیا کہ بددعا کرومیں قبول کروں گا۔اِس اِذن کے باوجود نبی کریم اللہ نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کی کہ اے خدا تیرے بندوں کے خلاف میں بددعا نہیں کروں گا۔تو جس کو اذن ہی نہیں جس کو انذار ہے جو ابھی ہم دیکھیں گے وہ کیسے جرات کر سکتا ہے۔یعنی عقل نہیں کر سکتا، کر جاتے ہیں کئی لوگ۔جس کی وجہ سے مجھے تکلیف پہنچی اور میں یہ صلى الله باتیں کر رہا ہوں آپ کے ساتھ۔خدا کے بندوں پر لعنت بھیجنا شروع کر دیا کو سنا شروع کر دیا انہیں۔طبرانی میں بحوالہ الترغیب والترہیب یہ روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ماحول ایسا تھا کہ اگر کسی شخص کے متعلق ہمیں یہ علم ہو جاتا کہ اس نے اپنے کسی دوسرے بھائی پر مسلمان مومن پر لعنت بھیجی ہے کلمہ اس کے منہ سے نکلا ہے رَأَيْنَا أَنْ قَدْ آتَى بَاباً مِنَ الْكَبَائِرِ تو ا سے ہم چھوٹا گناہ نہیں سمجھتے تھے کبیرہ گناہ سمجھتے تھے لعنت کرنا گالی دینا کو سنا کہ خدا تجھ پر لعنت کرے تجھ پر عذاب نازل کرے یہ کرے وہ کرے۔یہ کبائر میں سے ہے معمولی بات نہیں ہے۔اسی طرح نبی کریم ﷺ سے روایت ہے۔سنن ابی داؤد میں یہ روایت آتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوسروں پر لعنت نہ بھیجا کرو یہ کہ کر کہ تجھ پر اللہ کی لعنت پڑے یا یہ کہہ کر کہ خدا کا غضب تجھ پر نازل ہو یعنی وہ بھی لعنت میں ہی شامل کیا ہے اسکو۔یا یہ کہہ کر کہ تو جہنم میں جائے۔ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص دوسرے پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ لعنت جو ہے تمثیلی زبان میں آپ نے بات کی ، وہ جاتی ہے اس شخص کے پاس جس پر لعنت بھیجی گئی ہے اور اگر اس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے پہلے ہی کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ ملعون ہے تو یہ لعنت بھی اس کو پہنچ جاتی ہے لیکن اگر اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی تو وہ لعنت خدا سے یہ کہتی ہے کہ اے میرے رب وُجهت إلى فلان مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے لعنت کہتی ہے زبان حال سے فَلَمُ اَجِدُفِيهِ مَسْلَگا لیکن وہ تو لعنت کا مستحق نہیں مجھے تو کوئی رستہ نظر نہیں آتا کہ لعنتیں وہاں اس کے اوپر چمٹ جائیں وَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا فَيُقَالُ لَهَا تو اس لعنت کو کہا جاتا ہے اِرْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِنتِ کہ جو لعنت بھیجنے والا ہے اسی کو جا کے چمٹ جا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے : ”کسی کی نسبت لعنت میں