خطبات وقف جدید — Page 228
228 حضرت خلیفہ المسح الثالث بھی آپ کا ارشاد ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قَالَ رَسُولُ الله الله لَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا - (ترمذی ابواب البرو الصلة باب ماجاء في اللعن والطعن) ترمذی کی حدیث ہے کہ مومن جو ہے وہ لعنتیں بھیجنے والا نہیں ہوتا۔وہ تو نبی کریم اللہ کے فیض سے رحمتوں کو اکٹھا کرتا کچھ اپنے لئے کچھ اپنے ماحول کیلئے اور اس فیضان کو وہ پھیلاتا ہے۔پھر ترمندی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لَيْسَ الْمُؤمِنُ بِالطَّعَانِ وَلَا اللَّعَانِ وَلَا الْفَا حِشِ وَلَا البَذِي۔(ترمذی ابواب البر والصلة باب ماجاء في اللعنة) کہ مومن جو ہے وہ۔طعان جو ہے اس کے معنی ہیں عیب جو عیب گیر عیب لگانے والا۔مومن جو ہے وہ دوسروں کے عیب کی تلاش میں نہیں رہتا عیب پکڑتا نہیں دوسروں کے، اپنی فکر رہتی ہے اسکو۔اور عیب لگانے والا نہیں ہے وہ۔یہ تینوں معنے اس لفظ کے اندر آتے ہیں ، طعان کے معنی میں تو مومن آپ نے کہا ایسا نہیں ہوتا کہ دوسروں کے عیب دیکھے۔اپنے عیب دیکھو، اپنا محاسبہ کرو اور استغفار کرو اور خدا کی پناہ مانگو اس سے مدد چاہو کہ تمہارے عیب دور ہو جائیں۔دوسروں کے عیب دیکھ کے تمہیں کیا خوشی حاصل ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا لعنت نہیں کرتا ایک مومن۔جس کے معنے میں ابھی بتا چکا ہوں۔وہ بددعائیں دینے والا ، وہ کو سنے دینے والا ، وہ خیر کی بجائے بدی چاہنے والا ، وہ سنتِ نبوی سے احتراز کرنے والا ، اسکا عمل نہ کرنے والا نہیں ہے مومن۔صلى الله نبی کریم ﷺ تو خیر ہی خیر تھے۔نبی کریم ﷺ نے مکی زندگی میں ایک وقت میں یہ ارادہ کیا کہ طائف شہر جو چالیس میل پر مکے سے ہے وہاں جا کے تبلیغ کریں انکو۔شاید وہاں کوئی رجل رشید مل جائے جس پر اثر ہو آپ کی تبلیغ کا۔قریباً دس دن وہاں ٹھہرے۔اور جہاں جاتے تھے بات سننے سے انکار کر دیتے تھے۔ایک بہت بڑے رئیس کے پاس گئے اس نے بات سننے سے انکار کیا اور اس نے کہا کہ میرا مشورہ آپ کو یہ ہے کہ آپ ہمارا شہر چھوڑ کے چلے جائیں۔وہ مشورہ نہیں تھا وہ دھمکی تھی۔جب آپ نے دیکھا یہاں ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں آپ باہر نکلے تو شہر کے اوباش اور غنڈے جو تھے وہ ان رؤسائے طائف نے صلى الله آنحضرت کے پیچھے لگا دئیے۔جو زبان سے ایذاء بھی دے رہے تھے اور جو ہاتھ سے ایذاء بھی دے رہے تھے پتھر بھی پھینک رہے تھے۔آپ زخمی بھی ہوئے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ انہوں نے کوئی سوال کئے تو آپ نے فرمایا کہ اس موقع پر ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے یہ کہا کہ مجھے خدا