خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 227 of 682

خطبات وقف جدید — Page 227

227 حضرت خلیفة المسیح الثالث کہنا چاہتا ہوں کہ ساری جماعت یہ عہد کرے کہ کسی پر لعنت کوئی شخص نہیں بھیجے گا۔نہ غیر انسان پر نہ انسان پر۔زمیندار جو ہیں وہ اپنے بیلوں کو گالیاں دیتے ہیں۔مر جائیں۔توں ایہہ ہو جائیں۔تیرے اوپر خدا دا غضب۔خواہ مخواہ غصہ ایک بے زبان حیوان کے اوپر۔اس کو تو نقصان نہیں پہنچے گا لیکن تمہیں گناہ گار کر گیا وہ تمہارا بیل۔یہ اتنی اہمیت دی اس چیز کو نبی اکرم ﷺ نے کہ ایک سفر میں ایک اونٹ پر قومی سامان لدا ہوا تھا۔تو ایک دو حدیثیں ہیں ایک میں مالک کا ذکر ہے ایک میں مالکہ کا ذکر ہے۔اسکے منہ سے نکلا یہ کہ خدا کی لعنت ہو تجھ پر۔نبی کریم ﷺ کے کان میں آواز پڑی آپ نے کہا اس اونٹ سے اس سامان کو اتار دو۔اور یہ اونٹ جو ہے یہاں سے نکال دو میرے قافلے سے۔اور آگے کبھی اس کے اوپر مسلمان کا سامان نہیں لا دا صلى الله جائے گا۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ اسی طرح آوارہ پھرتا رہا یہ اونٹ ، اور محمد ﷺ کی یہ جو آواز تھی اس کو اس وقت کی امت مسلمہ نے اس طرح یا د رکھا کہ کسی نے بھی اسکو پکڑ کے اس کے اوپر پھر اپنا سامان نہیں لا دا۔آپ نے کہا پھر اگر تم ملعون اسکو کہتے ہو تو امت مسلمہ میں کسی ملعون کی گنجائش نہیں ہے ، چاہے وہ انسان ہو چاہے وہ حیوان ہو۔تو یہ معمولی چیز نہیں ہے۔ابو ہریرہ سے روایت ہے۔صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور فرمایا۔اس کے جواب میں کہ بعض لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! مشرکین پر بددعا کریں۔اُدْعُ عَلَى الْمُشْرِكِيْنَ۔تو آپ نے جواب دیا انِّی لَم اُبعث لَعَانَاً میں دنیا کی طرف لعنتیں بھیجنے کے لئے مبعوث نہیں ہواوَ إِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً میں تو رحمتوں کے ڈھیروں ڈھیر لے کے انسان کی طرف آرہا ہوں لعنت کا لفظ ویسے بھی بڑا ہی بھیا نک معنی رکھتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف جو بعض لوگ لعنت کو منسوب کرتے ہیں اس سلسلہ میں لعنت کے عربی لغت کے لحاظ سے جو معانی اور مفہوم ہیں انکو بڑی بسط سے کھول کے شرح کے ساتھ بیان کیا ہے۔بہت لمبا ہے میں اس وسعت کے ساتھ یہاں نہیں بتاؤں گا آپ کو لعنت کے معنی ہیں دھت کارنا۔ناراض ہو کر دور کر دینا۔آخرت میں سزادینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بھی لعنت ہے۔اور دنیا میں جو شخص ملعون ہو خدا کی نگاہ میں رحمت سے محروم کیا جانا اور مقبول اعمال کی توفیق اسے نہ ملنا۔اور آرام سے کہہ دیا کہ خدا کی لعنت ہو تم پر۔جس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ صلى الله اس دنیا میں خدا کی رحمت سے تم محروم رہو ہمیشہ اور تمہیں کبھی مقبول اعمال کی توفیق نہ ملے۔نبی کریم ہے نے فرمایا میں لعنتیں بھیجنے کیلئے نہیں آیا۔میں رحمتوں کے سامان پیدا کرنے کے لئے آیا ہوں تو جو نبی کریم صلى الله نے فرمایا اور کیا اسی کی اتباع ہم نے کرنی ہے جو آپ کے ماننے والے اور متبعین کہلاتے ہیں۔یہ تو آنحضرت ﷺ کا قول اپنے متعلق ہے اور یہ اسوہ ہیں ہمارے لئے محمد نے مومن کے لئے