خطبات وقف جدید — Page 226
226 حضرت خلیفہ امسح الثالث کوئی ایسی بات کوئی احمدی مسلمان تو نہیں کر رہا جو اسے نہیں کرنی چاہیے تب تو فائدہ ہے انکا جو میں نے کہا کہ خرابی پیدا ہوگئی وہ میری طبیعت پہ یہ اثر ہے سارے نہیں شاید سو میں سے ایک ہوگا اعزازی معلمین میں سے جن کو پہلے اعزازی کہتے تھے جنہوں نے اپنے نام کے ساتھ آنریری معلم تو لکھنا شروع کر دیا لیکن اپنے کام کے ساتھ آنریری معلم کے کام کا سو میں سے ایک حصہ بھی نہیں لگایا۔تو وہ یہ کوئی آنریری ڈگری اعزازی ڈگری نہیں تھی جو ان کو دی گئی تھی بلکہ یہ اعزاز ان کو جماعت کی طرف سے ملا تھا کہ وہ معلمین کی طرح اپنی جماعت میں اپنے گاؤں میں کام کریں اور دین کی واقفیت لوگوں میں پیدا کریں اور خدمت کا جذبہ ان کے اندر ہواور جو اسلام کے اصول ہیں ان پر اپنی جماعت کو چلائیں۔یہ آداب جو ہیں انسانیت کے اور اخلاق جو ہیں اسلامی ، اس سے پہلے صفائی ضروری ہے۔عقیدہ کی صفائی یعنی بد عقائد کو دور کر کے عقائد صحیحہ سے واقفیت حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنے کی یا ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنا اور عزم کرنا بدعات کے خلاف جہاد بڑا ضروری ہے اس کے بغیر تو شاید کچھ معجون مرکب بن جائے بدعات کا اور اسلامی اخلاق کا لیکن اسلامی اخلاق صحیح معنی میں قائم نہیں ہو سکتے۔بدعات کے خلاف جہاد جو ہے اس کی بھی بڑی ذمہ داری، اصل ذمہ داری تو ہماری جماعت پر ہے لیکن کافی حد تک یہ ذمہ دار ہیں معلم وقف جدید کے۔انکوایسی باتوں سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔بڑے بڑے آدمی بھی غلطی کر جاتے ہیں۔ایک غیر ملک میں ہمارے ہیں نمائندہ انہوں نے تعویذ گنڈ ا وہاں شروع کر دیا۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون لیکن جب جماعت کو علم ہوا تو ان کو سمجھانے کے لئے انتظام کیا گیا ہے۔تو بدعات کو دور کر کے اخلاق شنیعہ کو دور کر کے اخلاق فاضلہ قائم کرنا اور بلند اسلامی اخلاق جماعت میں پیدا کرنا یہ ساری جماعت کا فرض ہے وقف جدید کا بھی فرض ہے۔جو بدیاں ہیں اور جن کی طرف اس لئے توجہ نہیں دی جاتی کہ شاید چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں کوئی حرج نہیں۔اول تو کوئی بدی بھی چھوٹی نہیں۔اگر ایک چھوٹا ساعمل مقبول ہو جائے وہ انسان کو جنت میں لے جاسکتا ہے تو ایک چھوٹا سا گناہ جو خدا تعالیٰ کے قہر کو بھڑ کا دے وہ جہنم میں بھی لے جا سکتا ہے۔ہمیں اپنی عقل سے کام لینا چاہیے۔چونکہ وقف جدید کے کام کے متعلق میں اس وقت بات کر رہا ہوں بعض باتیں جو میرے علم میں آئیں ان میں سے ایک کو میں اس وقت لیتا ہوں اور وہ ہے بعض لوگوں میں گالی دینے ، سب وشتم کرنے اور لعنت بھیجنے کی بدعت۔اور سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ۔نعوذ باللہ الہ تعالیٰ کو اور تو کوئی کام نہیں ہے صرف اس انتظار میں بیٹھتا ہے کہ ہم کسی کے خلاف بد دعا کریں اور وہ فوراً اس کے مطابق دنیا میں اپنی تقدیر کو حرکت میں لائے اور اس کے اوپر اس کا غضب نازل ہو جائے۔اس کے متعلق میں مختصراً