خطبات وقف جدید — Page 223
223 حضرت خلیفہ مسیح الثالث ایک ہماری عربی کتابوں میں واقعہ آتا ہے وہ اس وقت مجھے یاد آیا۔ایک شخص نے لکھا ہے۔بدو سردار تھا اس نے لکھا کہ میری بیوی سامنے میرے کھانا رکھتی تھی تو میری بیٹی ساتھ میرے کھایا کرتی تھی۔وہ کہتا ہے اتنی ذہانت اس میں اور اتنی شرافت اس میں اور ادب انسانی سے واقف اور باپ کا خیال رکھنے والی کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جس لقسمہ کی طرف میری نگاہ اٹھی ہو اس کا ہاتھ اس طرف اٹھ گیا ہو۔پھر وہ بڑی ہوئی بیاہی گئی اپنے سسرال چلی گئی اور اس کی بجائے اس کا چھوٹا بھائی میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو گیا تو اس کا یہ حال تھا وہ کہتا ہے کہ جس لقے کی طرف میری نظر اٹھتی تھی اس لقمے کی طرف اسکا ہا تھ اٹھتا تھا۔یہ مثال بتاتی ہے کہ جب پالش ہو جائے ایک حسن ، آداب کہتے ہیں اسکو ، آداب آجائیں، صحیح تو فرق پڑ جاتا ہے انسان انسان میں۔ایک حسن پیدا ہو جاتا ہے۔وہ تیار ہو جاتا ہےاخلاقی میدانوں میں آگے بڑھنے کے لئے۔جس نے آداب نہیں سیکھے وہ اخلاق نہیں سیکھ سکتا ، جس نے اسلامی اخلاق نہیں سیکھے وہ اسلام کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق روحانی میدانوں میں آگے نہیں بڑھ سکتا، آسمانی رفعتوں کو حاصل نہیں کرسکتا۔عام طور پر ہمارا جو شاہد مبلغ ہے وہ گہرے فلسفوں میں تو جاتا ہے، اسلام پر اگر اعتراض کوئی کرے غیر مسلم، تو بڑے اچھے جواب دیتا ہے۔کچھ اس نے سیکھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ اس میدان میں اللہ تعالیٰ سے وہ سیکھتا ہے عین اس وقت جب وہ اعتراض کو سنتا ہے۔لیکن بہت کم ہیں جو اس طرف توجہ کرتے ہیں کہ ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ جماعت کو اسلام کے بتائے ہوئے جو آداب ہیں وہ سکھائیں۔مثلاً مسجد ہے اس کے آداب ہیں۔ان کا اخلاق کے ساتھ تعلق نہیں۔آداب ہیں مسجد کے۔وہ آنے چاہئیں۔آداب ہیں مجلس کے وہ آنے چاہئیں۔آداب ہیں اس مجلس کے جس میں امام وقت بیٹھا ہوا ہو وہ آنے چاہئیں۔آداب ہیں کھانے پینے کے وہ آنے چاہئیں۔آداب ہیں کپڑا پہننے کے وہ آنے چاہئیں۔اب یہ کہ پہلے دایاں پاؤں جوتے میں ڈالو اور بعد میں بایاں ان کا اخلاق کے ساتھ تعلق نہیں ، آداب کے ساتھ تعلق ہے۔حقیقت بڑی پیاری ہے اس کے پیچھے لیکن تعلق اس کا آداب کے ساتھ ہے۔کپڑا پہنے کپڑا اتارنے کے آداب ہیں۔ہزار قسم کے آداب اسلام نے سکھائے۔ایک تو وقف جدید والوں کو چاہیے کہ وہ آداب کے او پر بھی کتابیں لکھنی شروع کریں اور میں بتایہ رہا ہوں کہ زیادہ ذمہ داری معلمین کی آداب سکھانے پر ہے۔کیونکہ علمی لحاظ سے ان کو ہم نے اس طرح تعلیم نہیں دی۔اسلام کی قرآن کریم کی تفسیر کی جس طرح مبلغین کو ہم دیتے ہیں یا جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو بار بار پڑھنے والے ہیں خواہ وہ شاہد نہیں ان کو جو علم ہے وہ وقف جدید کے معلم کو نہیں ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وقف جدید کے معلم کی