خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 15 of 682

خطبات وقف جدید — Page 15

15 حضرت مصلح موعود ہے احمدیت کو پھیلا دیتا ہے۔پہلے مغربی پاکستان نے احمدیت کی طرف توجہ دی تو خدا تعالیٰ نے مغربی پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کو بڑھا دیا پھر ایسٹ پاکستان نے اس طرف توجہ کی تو خدا تعالیٰ نے وہاں ایک بہت بڑی تعدا د احمدیوں کی پیدا کر دی۔پھر اس نے احمدیت کو سیرالیون، غانا، نائیجیریا، ٹرینیڈاڈ ، برٹش گی آنا، فرینچ گی آنا ، ڈچ گی آنا، یوایس اے، ویسٹ اور ایسٹ افریقہ اور دوسرے علاقوں میں پھیلا نا شروع کر دیا۔ان سارے علاقوں کی احمدی آبادی کو ملا لیا جائے تو غالبا وہ مغربی پاکستان کی احمدی آبادی سے کم نہیں ہوگی۔پھر بیرونی ممالک میں تو ہمیں تمہیں سال سے تبلیغ ہورہی ہے اور یہاں 70 سال سے تبلیغ ہورہی ہے اور پھر جتنے مبلغ اس ملک کو ملے ہیں دوسرے ممالک کو نہیں ملے ، مثلاً حافظ روشن علی صاحب تھے، مولوی ابوالعطا ءصاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں اور پھر اور بہت سے مبلغ ہیں جن کے نام اسوقت ذہن میں نہیں آرہے۔یہ سب اسی ملک میں تبلیغ کرتے رہے۔پرانے زمانہ میں قاضی امیر حسین صاحب تھے مولوی سید سرور شاہ صاحب تھے، مولوی برہان الدین صاحب تھے، اور شیخ غلام احمد صاحب تھے یہ لوگ باہر جاتے تھے اور تبلیغ احمدیت کرتے تھے۔پھر پروفیسر عبد القادر صاحب کے چچا مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری تھے ان کی تعلیم صرف مڈل تک تھی مگر انگریزی زبان میں انھیں اتنی مہارت تھی کہ ایک دفعہ مدراس میں انکا لیکچر ہوا تو گورنران کا لیکچر سننے کے لئے آیا اور بعد میں اس گورنر نے کہا کہ ہم بھی اتنی اچھی انگریزی نہیں بول سکتے جتنی اچھی انگریزی مولوی صاحب نے بولی ہے۔انھوں نے ایک کتاب ” تائید حق بھی لکھی ہے جو نہائت اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے میں نے ایک دفعہ اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو میں اس وقت تک سویا نہیں جب تک کہ میں نے اس ساری کتاب کو ختم نہ کر لیا۔مولوی صاحب شروع شروع میں ایمان لائے پھر احمدیت کی تبلیغ کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں پھرتے رہے انکی تعلیم معمولی تھی مگر ذاتی مطالعہ سے انھوں نے اپنی لیاقت بڑھالی تھی۔اسی طرح دوسرے لوگ بھی ذاتی مطالعہ سے اپنی قابلیت بڑھا سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہمت ہو ، جب ہمت گر جاتی ہے تو انسان سمجھ لیتا ہے کہ میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن اگر کوئی تھوڑا سا کام کرنے والا آدمی بھی ہو تو میں نے دیکھا ہے کہ وہ دوسروں سے بہت آگے نکل جاتا ہے میں نے دیکھا ہے کہ کئی بی اے۔بیٹی ہوتے ہیں مگر جب ان کے سپر دکوئی کام کیا جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا ہماری طبیعت کا اس کام سے کوئی لگاؤ نہیں لیکن مولوی حسن علی صاحب صرف مڈل پاس تھے اور انھوں نے وہ کام کیا جو آج کل کے بی اے۔بی ٹی بھی نہیں کر سکتے۔ان کا یہ کہنا کہ فلاں کام ہم سے نہیں ہوسکتا یا ہماری طبیعت اس طرف راغب نہیں محض دھوکہ اور فریب ہوتا ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے باوجود ہم اپنی طبیعت کو اس طرف راغب کرنا نہیں چاہتے۔