خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 209 of 682

خطبات وقف جدید — Page 209

209 حضرت خلیفة امسح الثالث ہے کہ وہاں بھی مجددین اور اولیاء اللہ پیدا ہوئے مثلاً حضرت عثمان فودی جنکا میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے قریباً سو سال پہلے ان کا زمانہ ہے۔انہوں نے اعلان ہی یہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے ان بدعات کو دور کر دیں جنہوں نے اسلام کے چہرے کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ان کو تکالیف بھی برداشت کرنی پڑیں، انکولڑائیاں بھی لڑنی پڑیں، ان کو ہلاک کرنے کے منصوبے بھی بنائے گئے لیکن جس غرض کیلئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص علاقے کا مجدد بنایا تھا اس میں وہ کامیاب ہوئے اور بدعات کو دور کر دیا لیکن ایک عرصہ گزرنے کے بعد پھر ان کے ماننے والوں میں بھی دوسری قسم کی بدعات پیدا ہوگئیں۔ایک وقت آئے گا انشاء اللہ جب لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں علم رکھنے والے بھی اور صراط مستقیم پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بھی جماعت احمدیہ میں پیدا ہوں گے اور جوں جوں جماعت میں وسعت پیدا ہوتی جائیگی وہ کام کو سنبھالتے چلے جائیں گے لیکن اس وقت ہمارے شاہدین بھی ضرورت سے کم ہیں اور وقف جدید کے معلمین بھی تعداد سے کم ہیں اس لئے گزشتہ سال میں نے رضا کار معلمین کی ایک تحریک کی تھی۔میں اس کام کیلئے اعزازی معلمین“ کی اصطلاح پسند نہیں کرتا (ممکن ہے میری زبان سے غلطی سے نکل گیا ہو بہر حال مجھے یاد نہیں رہا) میری مراد رضا کار معلم ہیں۔یعنی وہ وقف جدید کے معلم جنہیں تھوڑا بہت معاوضہ بھی ملتا ہے اور وہ وقف جدید کے انتظام کے ماتحت کام کر رہے ہیں ان کے علاوہ رضا کار معلمین کی ضرورت ہے وقف جدید کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ان کی تحریک کی گئی تھی لیکن جماعت کو اس کام کی اہمیت بتانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ وہ منصوبہ یہ ہے کہ ہر گاؤں اور قصبہ اور آبادی کے کچھ لوگ یہاں مرکز میں آکر ٹھہریں اور چند ماہ میں ان کو کچھ بنیادی باتیں بتائی جائیں اور چونکہ سارا دن انہوں نے یہی کام کرنا ہے اس لئے کچھ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا سہولت کے ساتھ مطالعہ کریں اور پھر وہ اپنے اپنے گاؤں یا قصبہ یا آبادی میں جا کر دوستوں کے کم سے کم دینی معیار کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے معلم بھی اور شاہد بھی۔ان میں بہت اچھے بھی ہیں، اچھے بھی ہیں اور بالکل نچلے درجے کے بھی ہیں۔بعض کو فارغ بھی کرنا پڑتا ہے لیکن ان کی بڑی مانگ ہے جس کا مطلب ہے کہ جماعت میں ضرورت کا احساس ہے کہ انہیں معلم چاہیے۔جماعت میں ضرورت کا احساس موجود ہے کہ انہیں شاہد مبلغ چاہیے لیکن ضرورت کے اس احساس کے مطابق جتنا احساسِ ذمہ داری ہونا چاہیے وہ جماعت میں نہیں ہے۔نہ شاہد کیلئے جامعہ احمدیہ میں اتنے میٹرک پاس نوجوان آتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورت پوری کر دیں اور نہ وقف جدید کو اتنے معلم ملتے ہیں کہ وقف جدید جو کام کر رہی ہے یعنی یہ کہ جو کم