خطبات وقف جدید — Page 208
208 حضرت خلیت مسیح الثالث کے تجربے میں یہ باتیں آتی ہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کے پیار اور رضا کے حصول کیلئے انسان جو کوشش کرتا ہے وہ کسی ایک مقام پر کھڑی نہیں ہو جاتی بلکہ ایک خاص مقام پر پہنچنے کے بعد ایک ارفع مقام اسے نظر آتا ہے۔صرف اس دنیا میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد جنت یعنی اخروی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر دن اور ( چونکہ وہاں کے دنوں کا تو ہم تصور نہیں کر سکتے کہ کیسے ہیں اس لئے کہنا چاہیے ) ہر گھڑی ایک نیا دروازہ کھلتا ہے ترقیات کا جنتیوں کیلئے اور وہ خدا تعالیٰ کے حسن کو اور زیادہ حسین شکل میں دیکھتے ہیں۔آنے والے دن پچھلے دن کے مقابلہ میں زیادہ حسین ہوتے ہیں اور ہم اپنے محاورہ میں کہہ سکتے ہیں کہ جنت میں ان کا مقام کچھ اور بلند ہو جاتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی رضا کو کچھ اور زیادہ حاصل کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حسن کے جلوے کچھ اور ہی شان کے ساتھ انکے او پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔پس یہ جو تقویٰ والا حصہ ہے یعنی روحانی ترقیات کا یہ ظاہری دینی معیار کے مقابلہ میں بہت زیادہ اہم ہے لیکن جو دینی معیار ہے اس کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔اس کے لئے بھی قوم کو ہمیشہ چوکس اور بیداررہ کر کوشش کرنی پڑتی ہے کہ وہ صراط مستقیم پالینے کے بعد بے راہ رو نہ ہو جائیں۔اسلام کی گزشتہ چودہ سو سال کی تاریخ میں یہ نظر آتا ہے کہ جگہ جگہ اور ملک ملک مسلمانوں میں بدعات پیدا ہو گئیں اور پھر ان کو دور کرنے کیلئے خدا نے اپنے نیک بندوں کو کھڑا کیا اور وہ کامیاب ہوئے۔پھر کچھ عرصہ گزرا تو کسی اور طرف سے شیطان نے حملہ کیا اورنئی قسم کی بدعات پیدا ہوگئیں۔تاریخ کا یہ حصہ ہمیں بتاتا ہے کہ امت محمدیہ کا زندہ رہنے والا حصہ ایک حصہ ہمیشہ زندہ رہا ہے ) اور وہ ، وہ حصہ ہے جو ہمیشہ چوکس اور بیدار رہا ہے یعنی چودہ سو سال میں جہاں بدعات پیدا ہوئیں وہاں لاکھوں کروڑوں بزرگ بندے خدا سے پیار کرنے والے اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والے بھی تو پیدا ہوئے۔پس دریا کا ایک وہ دھارا ہے جو اپنے راستے سے ہٹا نہیں اور اپنے بہاؤ پر جارہاہے اور وہ جس کی نہ گہرائی کا پتہ ہے اور نہ اس کی وسعتوں کا ہمیں علم حاصل ہو سکتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی ذات وصفات جسے تمثیلی زبان میں سمندر کہہ سکتے ہیں وہ اسکے قریب ہورہے ہیں اور صراط مستقیم پر بحیثیت امت مسلمہ آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔غرض انہوں نے صراط مستقیم کو نہیں چھوڑا لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے بدعات بھی پیدا ہوئیں اور عجیب وغریب بدعات پیدا ہوئیں۔جس جگہ اسلام پھیلا وہاں کے پرانے مکینوں کی کچھ بدعات بھی آہستہ آہستہ واپس ان کے اندر لوٹ آئیں اس لئے مثلا افریقہ کی تاریخ ہے جسے دنیا نے تو یہ کہا کہ یہ ظلمات میں گھرا ہوا خطہ ارض ہے مگر وہاں مسلمانوں کے اندر کچھ اس قسم کے نور نظر آتے ہیں کہ اسلامی تاریخ بتاتی