خطبات وقف جدید — Page 203
203 حضرت خلیفة المسیح الثالث میں تو وہ ہر وقت ہی پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے حسن واحسان کی باتیں بڑوں اور صلى الله بچوں اور مردوں اور عورتوں کے سامنے کریں اور ان کے دل میں نبی اکرم ﷺ کا پیار پیدا کر کے انکو یہ کنونس (CONVINCE) کرا دیں انہیں یہ باور کرا دیں اور انکو پختہ طور پر یہ بات سمجھا دیں کہ نبی اکرم صلى الله - کی پیروی کرنا اور آپ کے اسوہ پر چلنا اور آپ کی اتباع کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لینا کوئی مہنگا سودا نہیں ہے بلکہ بہت ہی سستا سودا ہے اور اللہ تعالیٰ نے شریعت اسلامیہ کو جس کی کہ ہم پیروی کرنے والے ہیں اس قسم کا مذہب نہیں بنایا جس میں یہ دعا کی گئی ہو کہ اے خدا ہمیں صرف اُخروی نعماء سے نواز بلکہ ہمیں تو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(البقرہ:202) اور دنیا کی تمام حسنات کے حقیقی وارث در اصل محمد اللہ کے طفیل آپ کے متبعین ہی ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ دنیا کی حسنات کا استعمال اس طرح پر ہونا چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والا نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا ہو۔وقف جدید کے اس نئے دفتر کیلئے جماعت میں تحریک بھی ہونی چاہیے۔صرف میرا یہ خطبہ کافی نہیں ہے ہمارے مبلغ اور مبشر اور معلم جماعتوں میں اس کی تحریک کریں کہ اس کیلئے دوست آگے آئیں اس دفتر کی تفصیل میں اس وقت معین نہیں کر سکتا بعد میں حالات کو دیکھ کر معین کی جائے گی۔بعض ایسے دوست بھی ہو سکتے ہیں جو یہ کہیں کہ ہم پہلے صرف ایک مہینے کیلئے آسکتے ہیں تو ان کیلئے ایسے دینی نصاب ہونے چاہیں کہ ہم ان کو کم از کم اتنا نصاب سکھا دیں کہ جب وہ دوسری دفعہ ایک مہینے کے لئے آئیں تو اس عرصہ تک وہ گزارہ کر لیں۔کیونکہ آداب اسلامی اور اخلاق اسلامی سکھانے کی جس مہم کا اور جس عظیم علمی جہاد کا میں نے جلسہ سالانہ پر اعلان کیا ہے اس کو ہم ایک دو دن میں تو پورا نہیں کر سکتے۔اس کی تو تیاری کیلئے بھی وقت لگے گا۔اور پھر چوکس رہ کر اس کے لئے محنت کرنی پڑے گی۔بعض اچھی باتیں شروع کی جاتی ہیں۔پھر انکی طرف توجہ نہیں رہتی۔جب ہم بچے تھے تو قادیان احمد یہ چوک میں جو سیمنٹ کا ایک بورڈ تھا حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے اوپر آداب اور اخلاق کی باتیں نبی اکرم ﷺ کی احادیث لکھتے رہتے تھے اور ہر مردوزن کے علم میں آجاتا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے اور آپ اپنی امت سے چاہتے ہیں کہ اسی طرح کھانا کھایا جائے ، اسی طرح لباس پہنا جائے ، اسی طرح بات کی جائے۔کئی دوست یا بچے بعض دفعہ ایسی بات کہتے ہیں کہ بڑی کوفت ہوتی ہے چنانچہ مجھے جلسہ پر کہنا پڑا کہ دوبارہ ”اوئے کی آواز نہ آئے میں نے لفظ سنا تو مجھے سخت تکلیف ہوئی۔مجھے اس طرح بیچ میں بولنے کی عادت نہیں ہے لیکن میں رہ نہیں سکا۔ہمارا جلسہ ہو رہا ہو اور جلسے میں کوئی احمدی کسی اور کو اوئے“ کر کے آواز