خطبات وقف جدید — Page 204
204 حضرت خلیل لمسیح الثالث دے اور اونچی آواز سے پکارے یہ تو بڑی بد تہذیبی ہے لیکن یہ اس کا قصور نہیں ہے میں نے تو استغفار کیا میں سمجھا کہ یہ میرا قصور ہے کہ کیوں میں ساری جماعت کی صحیح تربیت نہیں کر سکا پھر یہ ساری جماعت کا قصور ہے کہ اس طرف توجہ نہیں دی اگر ان کو بتایا جائے تو وہ ایسا نہیں کریں گے۔چنانچہ اس کے بعد آواز نہیں آئی البتہ ایک دفعہ باہر سے آواز آئی تو میں نے باہر آدمی بھیجا۔کیونکہ یہاں جلسے کے دنوں میں جو دکاندار ہوتے ہیں ان کی اکثریت ادھر اُدھر کے علاقوں کے غیر احمدیوں کی ہوتی ہے جو یہاں آکر دوکانیں کھولتے ہیں۔وہ اپنی عادتیں لیکر آجاتے ہیں۔وہ بیچارے تو قابل رحم ہیں، ان کو تو بتانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔شاید اُن کی نقل کسی نے یہاں اتاری تھی یاوہ باہر سے ہی ایسی عادت لے کر آیا تھا۔مسجد میں شور مچانے کی اجازت نہیں ہے جب خطبہ ہورہا ہو تو اس میں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔اسلام نے اُٹھنے بیٹھنے اور مجالس میں آنے کے آداب سکھائے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں مگران چھوٹی چھوٹی چیزوں نے ہی اسلامی معاشرہ کو ایک فرقان بنادیا ہے اسلامی معاشرہ اور غیر اسلامی معاشرہ میں ایک ایسی تمیز پیدا کر دی ہے کہ یہ بظاہر چھوٹی چیزیں نتائج کے لحاظ سے چھوٹی نہیں رہتیں بلکہ زبر دست چیزیں بن جاتی ہیں جس پر ایک مسلمان کو ایک احمدی کو فخر کرنا چاہیے کہ کس طرح نبی اکرم ﷺ نے اپنی دعاؤں سے اور اپنی قوت قدسیہ سے اور خدا تعالیٰ سے اس عظیم تعلیم کو حاصل کر کے ہمیں وحشی سے انسان بنا دیا۔پھر انسانوں سے بہتوں کو با اخلاق بنایا اور بنارہے ہیں اور پھر با اخلاق انسانوں میں سے بہتوں کو خدا رسیدہ انسان بنایا اور اس تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔انسان ایک دن میں تو خدا تعالیٰ کا محبوب نہیں بن جاتا۔اس کے لئے بڑی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں بڑی دعائیں کرنی پڑتی ہیں۔بڑے مجاہدے کرنے پڑتے ہیں ، بڑا محاسبہ نفس کرنا پڑتا ہے اور اپنی حرکت و سکون کو بیدار ضمیر اور عزم صمیم کے ساتھ ایک خاص نہج پر صلى الله ڈھالنا پڑتا ہے تب انسان وہ انسان بنتا ہے جس کے متعلق محمد علیہ فرماتے ہیں کہ اس رنگ میں میری پیروی کر کے خدا تعالیٰ بھی تم سے پیار کرنے لگ جاتا ہے یہ کتنی بڑی نعمت ہے جو ہمیں ملتی ہے باقی تو میں نے بتایا ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں لیکن ان کا مجموعہ معاشروں میں ایک فرقان کی اور امتیاز کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ دے اور توفیق عطا کرے کہ ہم اپنی ضرورتوں کے مطابق آگے بڑھیں اور اپنے آپ کو پیش کر کے پہلے اپنے گھر کوٹھیک کریں تا کہ ہم ساری دنیا کے لئے نمونہ بنیں اور وہ خواہش جو ہم میں سے اکثر کے دل میں ہوگی ، ایک ایسی تڑپ جس کو بعض دفعہ دبانا مشکل ہو جاتا ہے خدا کرے کہ وہ جلد پوری ہو یعنی یہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے کیا ہے کہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام ساری دنیا میں تمام