خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 189 of 682

خطبات وقف جدید — Page 189

189 حضرت خلیفتہ امسح الثالث سمجھتا۔چونکہ ہمیں یہ نظر آیا کہ جس صداقت پر ہمیں اللہ تعالیٰ نے قائم کیا اور جس صداقت کو بھی نہ تضاد نہ کذب و افترا کی ضرورت پیش آئی اس کے خلاف کذب و افترا اور متضاد بیانات کا جاری ہو جانا ہمیں خدا تعالیٰ کی حمد سے معمور کر دیتا ہے۔کیونکہ اس نے ہمیں بتایا تھا کہ جب وہ کسی کوشش کو قبول کرتا ہے، کسی قربانی کو قبول کرتا ہے تو دنیا میں حاسدوں کا ایک گروہ پیدا کر دیتا ہے جو حسد کی آگ کو بھڑکاتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ آگ اس صداقت کو بھسم کر دے گی ، جلا کر راکھ کر دے گی۔حالانکہ حسد کی آگ مومنوں کے وجود میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے والی ہوتی ہے جس سے دعا ئیں گریہ وزاری کے ساتھ نکلتی ہیں۔غلبہ اسلام کے لیے بھی اور ان لوگوں کی ہدایت کے لیے بھی۔اس لیے ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہیں اور اسی کے فضل سے انشاء اللہ تعالیٰ معمور رہیں گے۔جب تک کہ اس دنیا کا خاتمہ نہ ہو جائے اور اسلام ساری دنیا پر غالب آ کر نوع انسانی میں سے ہر فرد کو اپنے احاطہ میں لے کر اُس کی زندگی کو حقیقی انسان کی زندگی بنا کر کامیاب نہیں ہو جاتا اور پھر نسلاً بعد نسل انسانی تربیت کو کمال تک نہیں پہنچا دیتا۔انشاء اللہ تعالیٰ یہ اس کی بشارتیں ہیں یہ اس کے وعدے ہیں اور وہ اپنے وعدوں کا سچا ہے۔یہ تو حمد کا حصہ ہے۔عزم کا جو حصہ ہے اس کا زیادہ تر تعلق ہمارے نفوس کے ساتھ ، ہماری جماعت کی کوششوں کے ساتھ ، ہماری والہانہ حرکت کے ساتھ ، ہمارے مستانہ وار نعروں کے ساتھ ہے۔اس یقین کی بنا پر کہ دنیا کی کوئی طاقت خدا تعالیٰ کے اس منشا اور تحریک کو نا کام نہیں کر سکتی۔عزم کے محل استوار کرنا ہماری صفت ہے اور اس سے ہی عظیم جدو جہد اور کوشش کے حسین اور صاحب احسان دھارے پھوٹ نکلتے ہیں جو راہ کے ہرخس و خاشاک کو بہالے جاتے ہیں اور مرد مومن ، مسلم مجاہد اپنے مقصود کو پالیتا ہے۔اور جس وقت یہ حقیقت انسان کے سامنے آتی ہے تو کمزور انسان بھی ایک پختہ اور مضبوط مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔اسی کو ہم عزم کہتے ہیں۔اس کے لیے ہم نے ایک اور منصوبہ بنایا ہے جو دعاؤں کے نتیجہ میں اور ہماری قربانیوں کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے نتیجہ میں اور سچ تو یہ ہے کہ اسی کی رحمتوں کو جذب کرنے کے نتیجہ میں انشاء اللہ کا میاب ہوگا۔پس یہ حمد اور عزم اگلے سولہ سال کے بنیادی ماٹو (motto) ہیں۔یہ دو چیزیں ہیں جن کی برکت سے ہم نے اسلام کو غالب کرنا اور نوع انسانی کے دل خدائے واحد و یگانہ کے لیے جیتنا ہے۔دوسری بات جو اس وقت میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وقف جدید کا نیا سال یکم جنوری سے شروع ہو چکا ہے۔وقف جدید حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک خاص تحریک ہے۔اس کے کام میں اتنی وسعت نہیں لیکن اس کے نتائج بڑے خوشکن نکل رہے ہیں۔پاکستان میں لاکھوں ہندو بھی بستے ہیں اور ان کا یہ حق ہے کہ وہ لوگ جو اسلام کو سچا سمجھتے اور اس میں حقیقی صداقت پاتے ہیں اور اپنی زندگیوں