خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 172 of 682

خطبات وقف جدید — Page 172

172 حضرت خلیق لمسیح الثالث طریق متعین ہو گیا ہے اور تحریک جدید کے کام کا تقاضا یہ ہے کہ بہت بڑے عالم ہوں ( خدا کرے ہمیں ایسے عالم میں اور ہمیشہ ملتے رہیں) کیونکہ انہیں باہر بھی جانا پڑتا ہے جہاں انہیں بڑے بڑے پادریوں سے جو اپنے آپ کو دنیا کا معلم سمجھتے ہیں۔خواہ وہ معلم ہوں یا نہ ہوں۔بہر حال وہ اپنے آپ کو دنیا کا معلم سمجھتے ہیں ان کے ساتھ باتیں کرنی پڑتی ہیں۔اس غرض کے لئے جامعہ احمدیہ قائم ہے۔جامعہ احمدیہ کو بھی اپنی ترقی کیلئے سوچنا چاہیے اور بہتری کیلئے سامان کرنا چاہیے۔جامعہ احمدیہ سے شاہد کرنے کے بعد پھر ہم ان کو ریفریشر کورسز کرواتے ہیں۔پھر بعض کو زبا نہیں سکھاتے ہیں۔اس کے اوپر بڑا خرچ آتا ہے۔ہمیں اس وقت جتنی ضرورت ہے اس کے مطابق ہمارے پاس وسائل نہیں۔ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں حالانکہ کام بڑھ گیا ہے۔مبلغین کے علاوہ ہمارے پاس پاکستان میں جو شاہد اور معلم ہیں جو پرانے اصلاح کرنے والے ہیں وہ بھی اسی طرح بڑے پایہ کے ہونے چاہیں۔یہ سارے اس پایہ کے نہیں جس پایہ کے ان کو ہونا چاہیے۔اس لئے انہیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اعلیٰ پایہ کے مربیان و معلمین بن جائیں اور وہ بن سکتے ہیں۔اگر چہ جامعہ احمدیہ کی پڑھائی کے نتیجہ میں تو نہیں بنتے۔لیکن وہ اپنی دعاؤں کے نتیجہ میں پایہ کے مبلغ ضرور بن سکتے ہیں۔کیونکہ دعاؤں کے نتیجہ میں اگر چیز حسب منشاء بن سکتی ہے تو اس لحاظ سے ہر شخص پایہ کا مبلغ بھی بن سکتا ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ سے پیار کا تعلق پیدا کرے گا اور دعائیں کرے گا تو خدا تعالیٰ خود اسے سکھائے گا اور اس کا معلم بنے گا۔پس جہاں انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینی چاہیے وہاں ہر شاہد کو بھی اپنی ذات کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ورنہ اگر دوسرے عریبک ٹیچرز کی طرح زندگی گزارنی ہے (میں شاہدین سے کہہ رہا ہوں ) تو پھر آپ نے کیا زندگی گزاری۔اگر آپ نے سکولوں کے عام عربی معلم اور مدرس کی طرح زندگی گذاری تو پھر آپ نے یہ تو بڑا ظلم کیا۔اس معلم کوتو علم ہی نہیں کہ وہ خدا کو پیار کس طرح کر سکتا ہے اور کتنا حاصل کر سکتا ہے۔پس شاہدین کو یہ علم ہوتے ہوئے اور دوسروں کو دیکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کتنا پیار کرنے والا ہے اور یہ کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکتے ہیں پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے پیار سے محروم رہیں تو میرے نزدیک اس سے زیادہ بد قسمتی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔بہر حال جامعہ احمدیہ پر بھی بڑے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔میٹرک پاس طلبا لیتے ہیں اور پھر ان کو آگے پڑھاتے ہیں۔پھر جس طرح ہر زندہ اور ہرے بھرے درخت کی ٹہنیاں سوکھ جاتی ہیں۔اسی