خطبات وقف جدید — Page 161
161 حضرت خلیفہ امسح الثالث خطبه جمعه فرموده 2 راگست 1969 ء بیت المبارک ربوہ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی: وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَ هُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَوَاتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيُهِنَّ بَلْ آتَيْنَهُمُ بِذِكْرِ هِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ۔(المومنون : 72) اس کے بعد فرمایا: اس وقت میں دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید اور وقف جدید کے چندے اس وقت تک پچھلے سال سے بھی کم وصول ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانبیاء کی ایک آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اعمالِ صالحہ بجالائیں گے یعنی ایک تو جن کے اعمال میں کوئی فساد نہیں ہوگا دوسرے حالات کے تقاضوں کو وہ پورا کرنے والے ہونگے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کوشش کو رد نہیں کرے گا فلا كُفْرَانَ لِسَعیه (الانبیاء: 95) اس میں ہمیں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اعمالِ صالحہ بجالانے سے اللہ تعالیٰ کے پچھلے انعامات کا بھی پوری طرح شکر ادا نہیں ہو سکتا۔اس پر اجر کاحق نہیں بنتا دوسرے فَلا كُفْرَانَ لسعيه (الانبیاء: 195 ہمیں بتاتا ہے کہ گوحق تو انسان کا نہیں بنتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرو گے اور فساد سے بچو گے اور ہر جہت سے تمہارے اعمال اعمالِ صالحہ ہونگے تو پھر تمہاری یہ کوشش اور تمہاری یہ جد و جہد رد نہیں کی جائے گی بلکہ اس پر تمہیں مزید انعامات ملیں گے۔مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہے اس کے نتیجہ میں اس کا ہر قدم پہلے سے آگے پڑتا ہے وہ ترقی کی راہ اور رفعتوں کے حصول میں ہر دم آگے سے آگے اور بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی قربانیاں ہر آن پہلی قربانیوں سے آگے بڑھ رہی ہوتی ہیں۔اس کی فدائیت اور اس کا ایثار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی جستجو میں اس کی کوشش اور مجاہدہ پہلے سے بڑا ہوتا ہے۔مومن ایک جگہ ٹکتا نہیں اس سے اس کے دل، اس کے دماغ ، اس کے سینہ اور اس کی روح کو تسلی نہیں ہوتی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ یہ جماعت مخلصین کی جماعت ہے ( الا ماشاء اللہ ہر الہی جماعت میں منافق بھی ہوتے