خطبات وقف جدید — Page 162
162 حضرت خلیفة المسیح الثالث ہیں ) اور ایک ایسی فدائی اور ایثار پیشہ جماعت ہے کہ جس کا قدم ہر وقت ترقی کی طرف ہی ہے۔پھر یہ غفلت کیوں؟ اس ستی کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ جماعت نے رضا کارانہ طور پر ایک مزید بوجھ قربانی کا اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا اور وہ بوجود فضل عمر فاؤنڈیشن کے چندوں کا تھا اور پچھلے چند مہینے ان وعدوں کو پورا کرنے کی طرف جماعت کے بہت سے احباب کی توجہ تھی اس لئے شاید کچھ کی واقع ہو گئی ہو۔اب اس کا زمانہ تو گذرگیا، استثنائی طور پر بعض احباب کو اجازت دی جارہی ہے۔اس لئے جماعت کو چاہیئے کہ عارضی طور پر جو داغ ان کے کردار پر لگ گیا ہے یعنی وہ پچھلے سال سے بھی ان چندوں کی ادائیگی میں کچھ پیچھے رہ گئے ہیں اس کو جلد سے جلد دھو ڈالیں اور دو مہینوں کے اندر اندر ان کی قربانیاں پچھلے سالوں کی نسبت زیادہ نظر آنی شروع ہو جائیں۔امید ہے (اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ) کہ جماعت اس بات کی توفیق پائے گی۔دوسری بات میں اختصار کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مومنون کی اس آیت میں جو ابھی میں نے پڑھی ہے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دینی اور دنیوی ترقی کے لئے اور حسنات کے حصول کے سامان پیدا کرنے کے لئے ”حق“ کو اتارا ہے یعنی ایک قائم رہنے والی اور دائی شریعت اور صداقت اور حق اور حکمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اسی نزول حق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کر دیئے ہیں۔ہر انسان ایک انفرادیت اپنے اندر رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے اسی کے مد نظر اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک ڈھیل بھی دی ہے۔اسی لئے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہونگے سات دروازے ایثار اور قربانی کی مختلف راہوں کو اختیار کرنے والوں کے لئے کھلیں گے۔کوئی ایک طرف سے خدا کی رضا کی جنت میں آرہا ہے اور کوئی دوسری طرف سے لیکن کچھ وہ بھی ہونگے جن پر اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور فضل کا خاص دروازہ ان کے لئے کھولا جائے گا۔خواہش تو ہر ایک کی ہے اور ہونی چاہئے کہ وہ خاص دروازہ جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے کھولا جائے گا وہی اس کے لئے کھلے کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی عاجزی کی انتہاء کو پہنچ گیا اور اس نے اپنا کچھ نہ سمجھا اور ہر چیز کواللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر رکھا۔دیکھو نبی اکرم ﷺ کی افضل اور بلند تر ہستی ہے کہ جس نے خدا کی راہ میں وہ قربانیاں دیں کہ کسی ماں جائے کو یہ توفیق نہ ملی اور نہ ملے گی کہ اس قسم کی قربانیاں اپنے رب کے حضور پیش کرے لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنا یہی مقام سمجھا اور آپ اسی مقام پر قائم رہے کہ میں کچھ نہیں۔ہر چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو لتی ہے، میرا اللہ کے اس ارفع قرب کو پالینا بھی محض اسی کے فضل کا نتیجہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق نازل ہوا ہے اب حق تمہاری خواہشات کی اتباع نہیں کرے گا۔اس حق نے کچھ حدود مقرر کی ہیں اور تمہاری خواہشات اور ہوائے نفس ان حدود سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔اس